مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
ہفتہ، 3 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.82 EUR/PKR 311.47 GBP/PKR 366.01 سونا/تولہ 429,945 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,627 USD/PKR 276.82 EUR/PKR 311.47 GBP/PKR 366.01 سونا/تولہ 429,945 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,627
قومی

وزیر خزانہ کی پاکستان بزنس کونسل کی قیادت سے ملاقات، سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال

📅 منگل، 11 اگست 2026 ✍️ Dost news ⏱ 4 منٹ
وزیر خزانہ کی پاکستان بزنس کونسل کی قیادت سے ملاقات، سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال (تصویر 1)
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

وزیر خزانہ کی پاکستان بزنس کونسل کی قیادت سے ملاقات، سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال

اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے پاکستان بزنس کونسل کے نو منتخب چیئرمین زیاد بشیر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر جاوید قریشی سے ملاقات کی جس میں سرمایہ کاری، کاروباری مسابقت، ریگولیٹری اصلاحات اور ملکی معاشی ترقی میں نجی شعبے کی شرکت کو مزید مضبوط بنانے کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیر خزانہ نے زیاد بشیر کو نئی ذمہ داری سنبھالنے پر مبارکباد دیتے ہوئے سرمایہ کاری اور نجی شعبے کی قیادت میں معاشی ترقی پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری اداروں کو ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل تبدیلی کے ساتھ خود کو مسلسل ہم آہنگ کرنا ہوگا، کارکردگی بہتر بنانا ہوگی اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی کاروباری ماڈلز اختیار کرنا ہوں گے تاکہ بدلتی ہوئی عالمی منڈیوں میں مسابقت برقرار رکھی جاسکے۔

ملاقات میں حکومت اور کاروباری برادری کے درمیان زیادہ مؤثر اور نتیجہ خیز رابطے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔ وزیر خزانہ نے پاکستان بزنس کونسل کو مختصر اور شعبہ وار تحقیق کے ذریعے قابل عمل سفارشات پیش کرنے کی ترغیب دی تاکہ اہم مواقع کی نشاندہی، درپیش مسائل کے حل اور مؤثر پالیسی سازی میں مدد مل سکے۔

سینیٹر محمد اورنگزیب نے بین الاقوامی تجربات سے استفادہ کرنے اور پاکستان کی پالیسیوں و کاروباری ماحول کو عالمی سطح پر تبدیل ہوتے رجحانات سے ہم آہنگ رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے حکومت اور نجی شعبے کے درمیان مسلسل تعاون کے ذریعے سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے اور کاروباری سرگرمیوں میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

وزیر خزانہ کی پاکستان بزنس کونسل کی قیادت سے ملاقات، سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال (تصویر 2)

وزیر خزانہ نے کاروبار اور سرمایہ کاری کو درپیش مسائل کے حل اور ریگولیٹری نظام کو مزید آسان بنانے کے لیے جاری اقدامات پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ اصلاحات کا محور ایسے عملی اقدامات ہونے چاہئیں جن سے کاروباری سرگرمیوں میں سہولت، مسابقت میں اضافہ اور سرمایہ کاری کو فروغ ملے۔

ملاقات میں امریکی انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ فنانس کارپوریشن اور امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک سمیت بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ذریعے بیرونی سرمایہ کاری اور فنانسنگ متحرک کرنے کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ ممکنہ سرمایہ کاروں اور مالیاتی اداروں کے سامنے مخصوص، تجارتی طور پر قابل عمل اور سرمایہ کاری کے لیے تیار منصوبے پیش کرنا ضروری ہے۔

ملاقات میں پاکستان کی ٹیکس پالیسی اور درمیانی مدت کے ٹیکس پالیسی فریم ورک پر جاری کام کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وزیر خزانہ نے کاروباری برادری کی جانب سے منظم تجاویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے سرمایہ کاری، مسابقت اور پائیدار معاشی نمو کے لیے ٹیکس نظام کی تشکیل میں وسیع مشاورت کی اہمیت پر زور دیا۔

سینیٹر محمد اورنگزیب نے نجی شعبے کے ساتھ مسلسل رابطے کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو پالیسی اور ریگولیٹری رکاوٹیں دور کرنے کے ساتھ ساتھ کاروباری برادری کو سرمایہ کاری، جدت، پیداواری صلاحیت میں اضافے اور نئی منڈیوں تک رسائی کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

زیاد بشیر اور جاوید قریشی نے کاروباری برادری کے ساتھ حکومت کے مسلسل رابطے کو سراہا اور معاشی و مالیاتی اصلاحات کی سمت کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے موجودہ وفاقی بجٹ کو حالیہ برسوں کے زیادہ امید افزا بجٹوں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے پاکستان بزنس کونسل کی جانب سے شعبہ وار تجاویز فراہم کرنے اور ملک کے سرمایہ کاری ماحول، مسابقت اور نجی شعبے کی قیادت میں معاشی ترقی کے لیے حکومت کے ساتھ مل کر کام جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں