مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
ہفتہ، 3 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 277.10 EUR/PKR 312.29 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 430,384 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,507 USD/PKR 277.10 EUR/PKR 312.29 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 430,384 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,507
قومی

امریکی ناظم الامور کی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے اہم ملاقات

📅 پیر، 10 اگست 2026 ✍️ Dost news ⏱ 5 منٹ
امریکی ناظم الامور کی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے اہم ملاقات
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب سے پاکستان میں امریکی ناظم الامور نٹالی بیکر نے پیر کو وزارت خزانہ میں ملاقات کی، جس میں پاکستان اور امریکا کے دوطرفہ اقتصادی تعلقات، باہمی تعاون کے فروغ اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیر خزانہ کا واشنگٹن کا کامیاب دورہ

وزیر خزانہ نے امریکی ناظم الامور کو اپنے حالیہ دورہ واشنگٹن کے بارے میں بریفنگ دی، جہاں انہوں نے امریکی وزیر خزانہ، عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی اعلیٰ انتظامیہ، امریکی انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ فنانس کارپوریشن (ڈی ایف سی) اور امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک (ایگزم بینک) کے حکام سے اہم ملاقاتیں کیں۔ انہوں نے امریکی اداروں کے ساتھ ہونے والی تعمیری بات چیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مالیاتی تعاون، سرمایہ کاری اور پاکستان میں تجارتی بنیادوں پر قابل عمل منصوبوں کے لیے فنانسنگ کے مواقع کو مزید وسعت دی جاسکتی ہے۔ یہ بات چیت اس تناظر میں انتہائی اہمیت کی حامل ہے جس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی سعودی ہم منصب سے ٹیلی فونک گفتگو کے ذریعے خطے میں اقتصادی استحکام کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا ہے۔

تجارتی فریم ورک اور اقتصادی اصلاحات

وزیر خزانہ نے امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر (یو ایس ٹی آر) کے ساتھ پاکستان اور امریکا کے باہمی تجارتی فریم ورک کے حوالے سے حالیہ رابطوں سے بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور پاکستان باہمی مفاد کی بنیاد پر اس فریم ورک کو آگے بڑھانے میں دلچسپی رکھتا ہے، جس میں مارکیٹ تک رسائی، برآمدی مواقع میں اضافہ اور دوطرفہ تجارت کا فروغ شامل ہے۔ سینیٹر محمد اورنگزیب نے بین الاقوامی کیپیٹل مارکیٹس میں پاکستان کی پیش رفت اور فنانسنگ کے ذرائع کو متنوع بنانے کی کوششوں سے بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری، ملکی خودمختار کریڈٹ پروفائل مضبوط بنانے اور معاشی استحکام و پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے طویل المدتی فنانسنگ کے ذرائع تک رسائی پر توجہ دے رہی ہے۔

سرمایہ کاری اور ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون

ملاقات میں امریکی مالیاتی اداروں بالخصوص ڈی ایف سی کی پاکستان کے سرمایہ کاری کے شعبے میں مزید شمولیت کے امکانات بھی زیر بحث آئے۔ وزیر خزانہ نے سرمایہ کاری کے لیے تیار مخصوص منصوبوں کی نشاندہی اور مناسب فنانسنگ ڈھانچے وضع کرنے کی اہمیت پر زور دیا تاکہ امریکی کمپنیوں اور مالیاتی اداروں کی پاکستان میں شمولیت بڑھائی جاسکے۔ ملاقات کے دوران بندرگاہوں اور لاجسٹکس، توانائی، ٹیلی کمیونیکیشن، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور دیگر ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون کے مواقع پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت نجی شعبے کی سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے اور پاکستان میں امریکی کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کا خیرمقدم کرتی ہے۔

معاشی استحکام اور امریکی تعاون کا اعادہ

امریکی ناظم الامور نٹالی بیکر نے حالیہ علاقائی تنازع اور اس کے معاشی اثرات، بالخصوص توانائی کی قیمتوں میں اضافے، سے نمٹنے اور معاشی و مالیاتی استحکام برقرار رکھنے کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔ وزیر خزانہ نے انہیں بدلتی ہوئی صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکومتی اقدامات سے آگاہ کیا، جن میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے عالمی مارکیٹ کے حالات سے قریبی مطابقت کے لیے روزانہ قیمتوں میں نظرثانی کے حالیہ نظام کا نفاذ بھی شامل ہے۔ انہوں نے مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے، زرمبادلہ کے ذخائر مضبوط بنانے، برآمدات کے فروغ اور اقتصادی ترقی کا سلسلہ برقرار رکھنے کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔ جس طرح ملک ایم کیو ایم کے وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال کا تمام 32 ڈویژنز کو انتظامی یونٹ بنانے کا مطالبہ جیسے انتظامی امور پر غور کر رہا ہے، اسی طرح معاشی بہتری کیلئے بھی ساختی اصلاحات جاری ہیں۔ نٹالی بیکر نے پاکستان کے اقتصادی اصلاحاتی ایجنڈے کے لیے امریکی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے مشکل حالات میں معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے حکومتی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے پاکستان اور امریکا کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط بنانے، بالخصوص پاکستانی معیشت کے اہم شعبوں میں امریکی کمپنیوں کی شمولیت بڑھانے میں مسلسل امریکی دلچسپی کا اظہار کیا، بالکل اسی جذبے کے ساتھ جیسے روس افغانستان، پاکستان اور انڈیا کے راستے بحر ہند تک ریل چلانے کا خواہشمند ہے تاکہ خطے میں تجارتی روابط بہتر ہو سکیں۔

ٹیگز: #امریکہ #پاکستان #سرمایہ کاری #محمد اورنگزیب #معیشت
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں