مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
اتوار، 4 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.83 EUR/PKR 311.48 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 429,972 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,805 USD/PKR 276.83 EUR/PKR 311.48 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 429,972 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,805
قومی

پی آئی ڈی کی جانب سے موسمیاتی صحافت پر تربیتی ورکشاپ کا انعقاد

📅 جمعہ، 07 اگست 2026 ✍️ Dost news ⏱ 3 منٹ
پی آئی ڈی کی جانب سے موسمیاتی صحافت پر تربیتی ورکشاپ کا انعقاد (تصویر 1)
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (پی آئی ڈی) نے میسرو کے تعاون سے میڈیا کی پیشہ ورانہ استعداد کار بڑھانے کے لیے ایک روزہ ورکشاپ کا انعقاد کیا جس کا مقصد موسمیاتی تبدیلی سے متعلق رپورٹنگ کو مضبوط بنانا اور موسمیاتی چیلنجز کے حوالے سے عوامی آگاہی میں اضافہ کرنا تھا۔

موسمیاتی تبدیلی اور میڈیا کا کردار

پی آئی ڈی کی جانب سے موسمیاتی صحافت پر تربیتی ورکشاپ کا انعقاد (تصویر 2)

اس ورکشاپ کا عنوان ‘موسمیاتی تبدیلی سے متعلق صحافت کو مضبوط بنانا: موسمیاتی موافقت، گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے خطرات (جی ایل او ایف)، سیلاب، ابتدائی انتباہی نظام اور آفات کے خطرات میں کمی کے حوالے سے میڈیا کی استعداد کار کو بہتر بنانا’ رکھا گیا تھا۔ اس تقریب میں مختلف اداروں سے تعلق رکھنے والے صحافیوں، رپورٹرز، اینکر پرسنز اور دیگر میڈیا پروفیشنلز نے شرکت کی۔ جس طرح حکومت دیگر شعبوں میں جدت لا رہی ہے، اسی طرح آغا خان یونیورسٹی کا بچوں کی صحت کیلئے جدید طبی مینوئل متعارف کروانا اور ماحولیاتی مسائل پر آگاہی دینا بھی ایک مثبت قدم ہے۔ پرنسپل انفارمیشن آفیسر رئیسہ عادل نے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اور ماحولیاتی امور پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کے فروغ میں میڈیا کے کلیدی کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے، اس لیے گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے خطرات (گلاف)، اچانک آنے والے سیلاب، ہیٹ ویوز اور دیگر آفات سے متعلق بروقت، درست اور حقائق پر مبنی رپورٹنگ ناگزیر ہے۔ جیسے کہ پاک ایران توانائی تعاون، ٹرانسمیشن لائن اور تجارتی حجم بڑھانے پر اتفاق ہوا ہے، اسی طرح ماحولیاتی تحفظ کے لیے بین الاقوامی تعاون بھی ضروری ہے۔ اس موقع پر ماہرین نے موسمیاتی موافقت، سیلاب کے خطرات، ابتدائی انتباہی نظام اور آفات کے خطرات میں کمی کی حکمت عملیوں پر پریزنٹیشنز دیں اور صحافیوں کو سائنسی معلومات موثر انداز میں عوام تک پہنچانے کے لیے عملی رہنمائی فراہم کی۔ شرکا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ صحافیوں اور تکنیکی ماہرین کے درمیان باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، کیونکہ پاک امریکہ ثقافتی تعاون، نوادرات کی واپسی اور سفارت کاری پر اتفاق بھی ایسے ہی پیشہ ورانہ رابطوں کا نتیجہ ہے۔ تقریب کے اختتام پر پرنسپل انفارمیشن آفیسر رئیسہ عادل، انفارمیشن سروس اکیڈمی (آئی ایس اے) کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر جنرل ثمینہ فرزین اور ہوم پبلسٹی ونگ کی ڈائریکٹر جنرل عائشہ تصدق نے تربیتی ورکشاپ کامیابی سے مکمل کرنے والے شرکا میں اسناد تقسیم کیں۔

ٹیگز: #اسلام آباد #پی آئی ڈی #رئیسہ عادل #صحافت #موسمیاتی تبدیلی
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں