پاک امریکہ ثقافتی تعاون، نوادرات کی واپسی اور سفارت کاری پر اتفاق

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی سے جمعرات کے روز پاکستان میں امریکہ کی ناظم الامور (Charge d’Affaires) محترمہ نیٹلی اے بیکر نے ملاقات کی، جس میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان ثقافتی ورثے کے تحفظ، عجائب گھروں کی ترقی، آثارِ قدیمہ کے تحفظ، ثقافتی تبادلوں اور مشترکہ ثقافتی منصوبوں کے فروغ پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ وفاقی وزیر نے امریکی ناظم الامور کا خیرمقدام کرتے ہوئے پاکستان اور امریکہ کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات کو سراہا اور پاکستان کے ثقافتی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے امریکی حکومت کے مسلسل تعاون پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے پاکستان۔امریکہ ثقافتی املاک کے معاہدے پر کامیاب عمل درآمد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ثقافتی املاک کی غیرقانونی اسمگلنگ کی روک تھام، ادارہ جاتی تعاون کے فروغ اور پاکستان کے قیمتی آثارِ قدیمہ کے تحفظ کے لیے دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
نوادرات کی وطن واپسی اور ثقافتی روابط
وفاقی وزیر نے گندھارا تہذیب سمیت پاکستان کے دیگر نایاب تاریخی نوادرات کی وطن واپسی میں امریکہ کے قیمتی تعاون پر بھی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ اٹلی نے روم ایئرپورٹ کے کاؤنٹر ڈرون منصوبے سے اسرائیلی کمپنیوں کو ہٹا دیا ہے اور اسی طرح امریکہ، فرانس اور برطانیہ سمیت مختلف ممالک سے سینکڑوں تاریخی نوادرات کامیابی سے پاکستان واپس لائے جا چکے ہیں، جبکہ آسٹریلیا سے مزید نوادرات کی واپسی کے لیے بھی کوششیں جاری ہیں۔ وفاقی وزیر نے پاکستان میں ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے جاری اقدامات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ حکومتِ پاکستان، جمہوریہ کوریا کے تعاون سے اسلام آباد میوزیم کو عالمی معیار کے جدید عجائب گھر میں تبدیل کر رہی ہے۔ انہوں نے پاکستان میں ‘پاکستان۔امریکہ ثقافتی ہفتہ’ منعقد کرنے کی تجویز پیش کی تاکہ دونوں ممالک کی ثقافتی روایات کو اجاگر کیا جا سکے۔
امریکی ناظم الامور کا عزم
محترمہ نیٹلی اے بیکر نے قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن کی کاوشوں کو سراہا اور پاکستان کے ساتھ ثقافتی تعاون کو مزید وسعت دینے کے امریکی عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے مشترکہ ثقافتی سرگرمیوں کا سالانہ کیلنڈر مرتب کرنے کی تجویز دی، جس میں نمائشیں، فنکاروں کے تبادلے اور پاکستان کے مختلف شہروں میں مشترکہ تقریبات شامل ہوں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان میں کام کرنے والی امریکی کمپنیاں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت ثقافتی ورثے کے تحفظ اور ڈیجیٹلائزیشن میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
آئندہ کا لائحہ عمل
اس موقع پر سیکریٹری قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن اسد رحمان گیلانی نے بتایا کہ اکتوبر میں پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس (PNCA) میں وطن واپس لائے گئے تمام تاریخی نوادرات کی خصوصی نمائش منعقد کی جائے گی۔ اس سے قبل آغا خان یونیورسٹی کا بچوں کی صحت کیلئے جدید طبی مینوئل متعارف کروانے جیسے فلاحی اقدامات کی طرح، قومی ورثہ ڈویژن بھی ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے کوشاں ہے۔ محکمہ آثارِ قدیمہ و عجائب گھر کے حکام نے امریکی ناظم الامور کو نوادرات کی وطن واپسی کے قانونی طریقۂ کار اور غیرقانونی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے جاری اقدامات پر بریفنگ دی۔ ملاقات کے اختتام پر دونوں فریقوں نے مشترکہ ایکشن پلان پر مؤثر عمل درآمد اور ثقافتی سفارت کاری کے ذریعے باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔ یاد رہے کہ پاکستان اس سے قبل بھی ایس آئی ایف سی، پاکستان اور چین میں اسپورٹس فٹ ویئر معاہدہ جیسے اہم بین الاقوامی معاہدوں کے ذریعے اقتصادی اور ثقافتی روابط کو فروغ دے چکا ہے۔
