پاک فوج کا براڈ پیک پر ریسکیو، سات کوہ پیماؤں کی میتیں برآمد

اسکردو (نمائندہ خصوصی)۔ پاکستان آرمی ایوی ایشن نے براڈ پیک (Broad Peak) کے پہاڑی سلسلے میں ایک انتہائی پیچیدہ اور مشکل ریسکیو آپریشن مکمل کر لیا ہے، جس کے دوران برفانی تودے تلے دب کر جاں بحق ہونے والے سات غیر ملکی کوہ پیماؤں کے جسدِ خاکی کو تلاش کرکے کامیابی سے اسکردو منتقل کر دیا گیا ہے۔
ریسکیو آپریشن کی تفصیلات
براڈ پیک پر پیش آنے والے اس المناک حادثے میں کل دس کوہ پیما لاپتہ ہوئے تھے، جن میں امریکہ، چین، نیپال، عمان اور پاکستان کے کوہ پیما شامل تھے۔ پاک فوج کے جانبازوں نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر مشکل ترین موسمی حالات میں سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری رکھا۔ آپریشن کے دوران جہاں سات لاشوں کو بازیاب کیا گیا، وہیں ایک امریکی خاتون کوہ پیما کی کچھ باقیات بھی برآمد کی گئی ہیں۔ یہ کارروائی این ڈی ایم اے میں غیر ملکی سفارتکاروں اور پاکستانی سفیروں کو جدید ڈیزاسٹر مینجمنٹ نظام پر بریفنگ کے تناظر میں ایک بار پھر عسکری اداروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

اسکردو میں خراجِ عقیدت
اسکردو پہنچنے پر جاں بحق ہونے والے کوہ پیماؤں کو سول و عسکری حکام، متعلقہ ممالک کے سفارتی نمائندوں اور ضلعی انتظامیہ نے ایک پروقار تقریب میں خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اس موقع پر افسوس کا اظہار کیا گیا کہ موسم کی شدت اور مسلسل برفانی تودوں کے گرنے کے باعث تین کوہ پیماؤں، جن کا تعلق پاکستان اور نیپال سے ہے، کی لاشیں اور امریکی خاتون کوہ پیما کی باقی ماندہ باقیات تاحال تلاش نہیں کی جا سکیں۔
مستقبل کا لائحہ عمل
انتظامیہ کے مطابق، جیسے ہی موسم کی صورتحال میں بہتری آئے گی اور برفانی تودے مستحکم ہوں گے، لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن دوبارہ شروع کیا جائے گا۔ اس افسوسناک سانحے کے بعد کوہ پیمائی کے عالمی حلقوں میں تحفظ کے معیارات پر ایک بار پھر بحث شروع ہو گئی ہے، جبکہ ملک میں دیگر شعبوں کی طرح، جیسا کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاروں کی تعداد پہلی بار 6 لاکھ سے تجاوز کر رہی ہے، ریسکیو اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے نظام کو مزید جدید بنانے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ اسی طرح کے پیچیدہ آپریشنز کے لیے لیتھیم بیٹریوں کی ریکارڈ توڑ درآمد، پاکستان میں سولر بجلی نئے دور میں داخل ہونے جیسے اقدامات سے تکنیکی آلات کی دستیابی میں بھی بہتری آ رہی ہے۔
