ملک کو درپیش مسائل کے حل کے لیے فوری اور جامع اصلاحات ناگزیر ہیں، شہیر حیدر سیالوی

ملک کو درپیش مسائل کے حل کے لیے فوری اور جامع اصلاحات ناگزیر ہیں، شہیر حیدر سیالوی
اسلام آباد: پاکستان نظریاتی پارٹی کے چیئرمین شہیر حیدر سیالوی نے کہا ہے کہ ملک کو درپیش سیاسی، انتظامی اور معاشی مسائل کے حل کے لیے فوری اور جامع اصلاحات ناگزیر ہیں، جبکہ موجودہ انتظامی نظام اپنی افادیت کھو چکا ہے، اس لیے نئے انتظامی یونٹس اور صوبوں کا قیام وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔
نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پنجاب جیسے بڑے صوبے میں آبادی اور اضلاع کی تعداد کے پیش نظر نئے صوبے قائم کیے جائیں، جبکہ بلوچستان، سندھ، خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان میں بھی اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے ذریعے انتظامی، معاشی اور ترقیاتی مسائل حل کیے جا سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قوم پرستی اور لسانی سیاست نے قومی یکجہتی کو نقصان پہنچایا ہے اور ہر پاکستانی کو آئین کے مطابق ملک کے کسی بھی حصے میں رہنے اور روزگار حاصل کرنے کا حق حاصل ہے۔
شہیر حیدر سیالوی نے کہا کہ عوام مہنگی بجلی کا بوجھ مزید برداشت نہیں کر سکتے، اس لیے کالا باغ ڈیم سمیت نئے آبی ذخائر اور چھوٹے ڈیم تعمیر کیے جائیں، توانائی کے شعبے میں اصلاحات کی جائیں اور آئی پی پیز کے معاہدوں پر نظرثانی کی جائے۔
انہوں نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی جگہ "فاطمہ جناح انکم سپورٹ پروگرام” متعارف کرانے، مستحق خاندانوں کو کاٹیج انڈسٹریز، ہنر اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے، صحت کارڈ پروگرام میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات اور سرکاری اسپتالوں کی بہتری کا بھی مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں اعلیٰ شرح خواندگی کے باوجود انٹرنیٹ، بجلی، روزگار اور دیگر بنیادی سہولیات کی کمی کے باعث نوجوان نقل مکانی پر مجبور ہیں، جبکہ باصلاحیت نوجوانوں کا بیرون ملک جانا قومی نقصان ہے۔ انہوں نے اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا مکمل حق دینے کا مطالبہ بھی کیا۔
چیئرمین پاکستان نظریاتی پارٹی نے دعویٰ کیا کہ حکومت ان کی جماعت کی سیاسی سرگرمیوں کے لیے مختلف شہروں میں این او سی جاری نہیں کر رہی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پاکستان نظریاتی پارٹی آئندہ بلدیاتی، کنٹونمنٹ اور عام انتخابات میں بھرپور حصہ لے گی اور اگر حکومت نے نئے صوبوں، آبی منصوبوں، آئی پی پیز اور معاشی اصلاحات سمیت دیگر مطالبات پر پیش رفت نہ کی تو پارٹی عوامی تحریک شروع کرنے پر مجبور ہوگی۔
