سیکرٹری اطلاعات کا اے پی پی کی ترقی اور بہتری کا عزم

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی سیکرٹری اطلاعات و نشریات اشفاق احمد خلیل نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) کی پیشہ ورانہ ترقی، جدید خطوط پر استواری اور ادارے کے ملازمین کی فلاح و بہبود کیلئے ہر ممکن اقدامات بروئے کار لائے جائیں گے۔ انہوں نے یہ بات منگل کے روز اے پی پی ہیڈکوارٹرز میں بورڈ آف ڈائریکٹرز کے 35 ویں اجلاس کی صدارت کرنے کے بعد ادارے کے ملازمین سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر انہوں نے واضح کیا کہ ملازمین کے طویل عرصے سے زیر التواء مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کیلئے وہ اپنا مکمل تعاون فراہم کریں گے۔ جس طرح ملک میں پاکستان کا ویزا اور ماسٹرکارڈ پر انحصار کم کرنے کی تجویز، پے پاک کارڈ کے فروغ کا منصوبہ پیش کیا گیا ہے، اسی طرح سرکاری اداروں میں ڈیجیٹل اصلاحات کی ضرورت ہے۔ اجلاس کے دوران اے پی پی کے انتظامی و مالی امور سے متعلق اہم ایجنڈا آئٹمز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور انہیں متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔ اجلاس میں قائم مقام منیجنگ ڈائریکٹر اے پی پی سبین عثمان خٹک، پرنسپل انفارمیشن آفیسر ریئسہ عادل، ڈائریکٹر جنرل پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن سعید شیخ، سینئر صحافی محمد نواز رضا، اور جوائنٹ سیکرٹری ایکسپنڈیچر فنانس ڈویژن اظہار احمد سمیت بورڈ کے دیگر اراکین اور اے پی پی کے سینئر حکام نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ سینیٹر سرمد علی، پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغ عامہ کی سربراہ نوشینہ سلیم اور ڈائریکٹر جنرل انٹرنل پبلسٹی عاشق شیخ نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کو یقینی بنایا۔ اجلاس کے اختتام پر اے پی پی کے ملازمین نے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ایجنڈا آئٹمز کی منظوری کے عمل کو خوش اسلوبی سے مکمل کرنے پر سیکرٹری اطلاعات، بورڈ کے اراکین اور اے پی پی انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ملک بھر میں اداروں کی تنظیم نو اور کارکردگی بڑھانے پر زور دیا جا رہا ہے، جیسا کہ حال ہی میں ملک بھر میں یکساں آن لائن پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ جاری کرنے کی اصولی منظوری دی گئی ہے۔ یہ اقدامات ادارہ جاتی شفافیت اور عوام کو بہتر خدمات فراہم کرنے کے حکومتی ویژن کا حصہ ہیں، جبکہ دوسری جانب سینی ٹیشن ڈائریکٹوریٹ کی نجکاری کسی صورت قبول نہیں، سی ڈی اے مزدور یونین کی کام چھوڑ ہڑتال کی وارننگ جیسے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے بھی لیبر ویلفیئر کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔
