غیر ملکی سرمایہ کاری کیلئے یو اے ای اور ویت نام طرز کی اصلاحات ناگزیر

لاہور (نمائندہ خصوصی)۔ پاکستان انڈسٹری اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشن فرنٹ (پیاف) انجم نثار گروپ کے سینئر رکن و سابقہ ایگزیکٹو کمیٹی ممبر لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری مدثر مسعود چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے متحدہ عرب امارات، ویت نام اور بنگلہ دیش جیسی انتظامی اصلاحات ناگزیر ہو چکی ہیں۔ حالیہ برسوں میں متعدد ملٹی نیشنل کمپنیوں کے انخلاء نے سرمایہ کاری کے ماحول پر سنجیدہ سوالات کھڑے کیے ہیں۔
وفاقی اور صوبائی سطح پر ڈیجیٹل سسٹم کی ضرورت
اپنے بیان میں انہوں نے تجویز دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی اور صوبائی سطح پر مکمل اختیارات کے حامل ‘ون ونڈو ڈیجیٹل انویسٹمنٹ سسٹم’ کو فوری طور پر فعال کیا جائے تاکہ تمام این او سیز اور سرکاری منظوریوں کا عمل ایک ہی پلیٹ فارم پر مکمل ہو سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جس طرح پاکستان کا ویزا اور ماسٹرکارڈ پر انحصار کم کرنے کی تجویز زیر غور ہے، اسی طرح معاشی ڈھانچے میں بھی خودمختاری کی ضرورت ہے۔
اصلاحات اور شفافیت کا مطالبہ
مدثر مسعود چوہدری نے مطالبہ کیا کہ ہر سرکاری منظوری کے لیے قانونی مدت مقرر کی جائے اور غیر ضروری تاخیر کی صورت میں خودکار منظوری یا اعلیٰ سطح پر فوری کارروائی کا نظام متعارف کرایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کے انخلاء کی وجوہات جاننے کے لیے آزادانہ تحقیق کر کے اس کی روشنی میں اصلاحاتی اقدامات کیے جائیں جبکہ پالیسیوں میں تسلسل، شفافیت، جوابدہی اور ڈیجیٹل گورننس کو یقینی بنایا جائے۔
صنعتی صلاحیت اور حکومتی تعاون
انہوں نے کہا کہ پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے کچھ علاقے اپنی جغرافیائی اہمیت، صنعتی صلاحیت اور وسیع مارکیٹ کی بدولت سرمایہ کاری کے بے پناہ مواقع رکھتے ہیں، تاہم ان مواقع سے بھرپور فائدہ صرف اس وقت ممکن ہے جب حکومت سرمایہ کار دوست، تیز رفتار اور شفاف نظامِ حکمرانی کو عملی شکل دے۔ مدثر مسعود نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جیسے ملک میں ملک بھر میں یکساں آن لائن پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ جاری کرنے کی اصولی منظوری دی گئی ہے، اسی طرز پر سرمایہ کاری کے لیے بھی یکساں پالیسی ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ نجی شعبہ حکومت کے ساتھ مل کر سرمایہ کاری کے فروغ، کاروباری آسانیوں اور معاشی استحکام کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے، تاہم حکومت کو بروقت اصلاحات کرنی ہوں گی جس سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے میں مدد ملے گی، بصورت دیگر سینی ٹیشن ڈائریکٹوریٹ کی نجکاری کسی صورت قبول نہیں جیسے مسائل کی طرح صنعتی شعبہ بھی عدم تحفظ کا شکار رہے گا۔
