لاہور چیمبر میں ازبکستان کے معاشی مواقع اور مذہبی ورثے پر سیمینار

لاہور (نمائندہ خصوصی)۔ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے قائم مقام صدر تنویر احمد شیخ نے کہا ہے کہ پاکستان کو عالمی سطح پر بہتر انداز میں متعارف کرانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے اندر مثبت تبدیلی، دیانتداری، ذمہ داری اور پیشہ ورانہ معیار کو فروغ دیں۔ انہوں نے کہا کہ تجارت، امانت داری اور اچھے اخلاق نہ صرف ملکی معیشت کو مضبوط بناتے ہیں بلکہ دنیا بھر میں پاکستان کے مثبت تشخص کو بھی اجاگر کرتے ہیں۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے زیر اہتمام منعقدہ سیمینار بعنوان "ازبکستان کے معاشی مواقع اور مذہبی ورثہ” کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر پاکستان کا ویزا اور ماسٹرکارڈ پر انحصار کم کرنے کی تجویز، پے پاک کارڈ کے فروغ کا منصوبہ جیسے اہم معاشی امور پر بھی ضمنی گفتگو ہوئی۔ سیمینار میں لاہور چیمبر کی ایگزیکٹو کمیٹی کی رکن فردوس نثار بھی موجود تھیں۔
سیمینار میں شرکاء کی شرکت اور خطاب
سیمینار میں قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کے کنوینر ڈاکٹر طارق شریف زادہ، ازبکستان میں پاکستان کے سفیر عزت مآب مدثر ٹیپو، جو زوم کے ذریعے شریک ہوئے، اور کرغزستان کے اعزازی قونصل کاشف یونس مہر نے خصوصی خطاب کیا۔ تقریب میں سابق ای سی ممبر نعیم حنیف، جاوید اعجاز، پنڈت بھگت لال، نگہت اظہار، محمد حارث، انعم قاضی، دانش ظفر اور دیگر ممتاز شخصیات بھی شریک ہوئیں۔ اپنے خطاب میں تنویر احمد شیخ نے کہا کہ ازبکستان کا مذہبی ورثہ اور اس کے معاشی امکانات پاکستان کے لیے خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی تاجروں، طلبہ اور پیشہ ور افراد کو بیرونِ ملک جانے سے قبل مناسب تربیت فراہم کی جانی چاہیے تاکہ وہ اپنے کردار اور طرزِ عمل سے پاکستان کی مثبت نمائندگی کر سکیں۔

اخلاقی اقدار اور معاشی ترقی کا باہمی تعلق
انہوں نے کہا کہ دنیا میں کامیابی صرف معاشی ترقی سے وابستہ نہیں بلکہ اخلاقی اقدار، سچائی اور امانت داری بھی اس کا بنیادی جزو ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستانی قوم خود کو ایک ذمہ دار اور بااعتماد قوم کے طور پر منوا لے تو ملک کی ساکھ اور عالمی مقام میں نمایاں بہتری آسکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی سفارتخانوں کو بھی ایسے علمی، ثقافتی اور تجارتی پروگراموں کے انعقاد میں فعال کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط ہوں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ لاہور چیمبر اور اس کی مختلف قائمہ کمیٹیاں ایسے اقدامات کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کریں گی۔ اس موقع پر سینی ٹیشن ڈائریکٹوریٹ کی نجکاری کسی صورت قبول نہیں، سی ڈی اے مزدور یونین کی کام چھوڑ ہڑتال کی وارننگ کے تناظر میں تنظیمی نظم و ضبط پر بھی بالواسطہ روشنی ڈالی گئی۔
تاریخی و ثقافتی روابط کا فروغ
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر طارق شریف زادہ نے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی جانب سے اس اہم موضوع پر سیمینار کے انعقاد کو سراہتے ہوئے کہا کہ ازبکستان سمیت تمام اسلامی ممالک کے بارے میں آگاہی اور باہمی روابط کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک دوسرے کو جاننے اور سمجھنے کا عمل ہی مضبوط تعلقات کی بنیاد بنتا ہے، جس سے معاشی، سماجی اور ثقافتی تعاون کے نئے راستے کھلتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ازبکستان کے ساتھ پاکستان کے تاریخی، مذہبی اور تہذیبی روابط صدیوں پر محیط ہیں اور ان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے علمی و فکری سطح پر رابطوں کا تسلسل برقرار رہنا چاہیے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان اور ازبکستان کے درمیان تعلقات مستقبل میں مزید مستحکم اور بامقصد ہوں گے۔ سیمینار کے شرکاء نے ازبکستان کے مذہبی ورثے، تاریخی اہمیت اور بڑھتے ہوئے معاشی مواقع پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر ملک بھر میں یکساں آن لائن پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ جاری کرنے کی اصولی منظوری جیسے جدید انتظامی اقدامات پر بھی شرکاء نے دلچسپی ظاہر کی۔ شرکاء نے متفقہ طور پر اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور وسطی ایشیائی ممالک کے درمیان تجارتی، ثقافتی اور عوامی روابط کو مزید فروغ دینے کے لیے مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔
