صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بڑی تیل کمپنیوں کو منافع واپس کرنے کی ہدایت

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بڑی تیل کمپنیوں کو منافع واپس کرنے کی ہدایت
واشنگٹن (نمائندہ خصوصی)۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملک کی بڑی تیل ساز کمپنیوں کی جانب سے حالیہ عرصے میں حاصل کیے گئے غیر معمولی منافع پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ معاشی حالات میں توانائی کے شعبے سے وابستہ بڑی کارپوریشنز کو اپنی بھاری کمائی کا کچھ حصہ امریکی عوام کو ریلیف دینے کے لیے واپس کرنا چاہیے۔ صدر ٹرمپ کے اس بیان کو ایسے وقت میں غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے جب عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ، مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور مہنگائی کے باعث امریکی شہریوں پر پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا بوجھ مزید بڑھ رہا ہے۔ جیسا کہ حالیہ معاشی صورتحال پر این ویڈیا کے شیئرز میں گراوٹ، ایپل دوبارہ دنیا کی قیمتی ترین کمپنی جیسے واقعات سے مارکیٹ پر اثرات مرتب ہوتے ہیں، ویسے ہی توانائی کے شعبے میں ہونے والی یہ پیش رفت انتہائی اہم ہے۔
ایکسون موبل اور شیورون کی کارکردگی پر تنقید
واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے امریکہ کی دو بڑی توانائی کمپنیوں ایکسون موبل (ExxonMobil) اور شیورون (Chevron) کا نام لے کر ان کی حالیہ مالیاتی کارکردگی پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں بعض بڑی کمپنیاں غیر معمولی منافع حاصل کر رہی ہیں، جبکہ عام امریکی شہری ایندھن اور توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے کہا، "میں ایسی صورتحال کو پسند نہیں کرتا۔ یہ کمپنیاں موجودہ حالات سے بھرپور فائدہ اٹھا کر بے پناہ منافع کما رہی ہیں، اور انہیں چاہیے کہ وہ اس کمائی کا کچھ حصہ امریکی عوام کو واپس کریں تاکہ لوگوں پر بڑھتے ہوئے مالی بوجھ میں کمی لائی جا سکے۔” جس طرح امریکہ کا نیا ویزا قانون، سیاحتی و کاروباری ویزوں کیلئے بانڈ لازم قرار دیا گیا ہے، اس سے حکومت کی جانب سے پالیسی میں سختی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
عالمی منڈی اور توانائی کمپنیوں کا مؤقف
صدر ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صرف چند روز قبل ایکسون موبل اور شیورون نے دوسری سہ ماہی کے مالیاتی نتائج جاری کیے، جن میں دونوں کمپنیوں نے مضبوط منافع رپورٹ کیا۔ توانائی کے شعبے کے ماہرین کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے، سپلائی سے متعلق خدشات اور مشرق وسطیٰ میں جاری جغرافیائی کشیدگی نے تیل کمپنیوں کی آمدنی میں نمایاں اضافہ کیا ہے، جبکہ اس کا براہِ راست اثر دنیا بھر کے صارفین کو مہنگے ایندھن کی صورت میں برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ صدر کے بیان کے بعد میڈیا کی جانب سے ایکسون موبل اور شیورون کے حکام سے مؤقف جاننے کی کوشش کی گئی، تاہم خبر فائل کیے جانے تک دونوں کمپنیوں کی جانب سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر وائٹ ہاؤس اور توانائی کمپنیوں کے درمیان اس معاملے پر اختلافات میں اضافہ ہوا تو اس کے اثرات توانائی کی پالیسی، سرمایہ کاری اور مستقبل کی مارکیٹ حکمت عملی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
سیاسی اور معاشی حکمت عملی
سیاسی اور معاشی مبصرین کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بڑی کمپنیوں پر عوامی سطح پر دباؤ ڈالنے کی حکمت عملی نئی نہیں۔ اپنے پہلے دورِ صدارت کے دوران بھی انہوں نے متعدد مرتبہ بڑی کارپوریشنز کو عوامی مفاد کے لیے فیصلے کرنے پر زور دیا تھا۔ انہوں نے آٹو موبائل کمپنیوں پر امریکہ میں ہی پیداواری یونٹس برقرار رکھنے اور مقامی روزگار کے تحفظ کے لیے دباؤ ڈالا، دفاعی شعبے سے وابستہ کمپنیوں کے مہنگے معاہدوں اور اخراجات پر کھل کر تنقید کی، جبکہ دوا ساز اداروں سے ادویات کی قیمتیں کم کرنے اور عام شہریوں کے لیے علاج کو سستا بنانے کا مطالبہ بھی کرتے رہے۔ اس طرزِ عمل کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ امریکہ: ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے اہلخانہ کو دھمکیاں دینے والے گرفتار ہونے جیسے واقعات کے باوجود صدر ٹرمپ اپنی معاشی پالیسیوں پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کا تازہ بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ امریکی حکومت توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور مہنگائی کے اثرات کو سیاسی اور معاشی دونوں زاویوں سے سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے۔ ان کے مطابق اگر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند رہیں تو حکومت پر عوامی دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے، جبکہ توانائی کمپنیاں بھی اپنے منافع، سرمایہ کاری اور حصص یافتگان کے مفادات کے درمیان توازن قائم رکھنے کی کوشش کریں گی۔ یہی وجہ ہے کہ آئندہ ہفتوں میں وائٹ ہاؤس اور بڑی تیل کمپنیوں کے درمیان تعلقات اور توانائی کی پالیسی پر ہونے والی پیش رفت عالمی مالیاتی منڈیوں اور سرمایہ کاروں کی خصوصی توجہ کا مرکز بنی رہے گی۔
