لاہور چیمبر الیکشن: پیاف کا کارپوریٹ کلاس میں شاندار پاور شو

لاہور (نمائندہ خصوصی)۔ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے آئندہ انتخابات کے سلسلے میں انتخابی سرگرمیاں عروج پر پہنچ گئی ہیں۔ اس سلسلے میں پیاف کے کارپوریٹ کلاس کے امیدوار مطاہر احمد کی جانب سے منعقدہ شاندار ظہرانہ شہر کی تاجر برادری کا بڑا اجتماع بن گیا، جس میں پیاف کی مرکزی قیادت، مختلف تجارتی گروپس کے سربراہان اور کارپوریٹ کلاس سے تعلق رکھنے والے کاروباری افراد نے بھرپور شرکت کی۔
پیاف کی بھرپور انتخابی تیاری اور اتحاد کا مظاہرہ
تقریب میں پیاف کے بانی میاں شفقت علی، پیٹرن اِن چیف انجینئر سہیل لاشاری، چیئرمین سید محمود غزنوی، سینئر وائس چیئرمین خواجہ کاشف الٰہی، وائس چیئرمین راجہ وسیم حسن، چیئرمین ایسوسی ایٹ کلاس فرخ احسان خان سمیت پیاف کی اعلیٰ قیادت شریک ہوئی۔ اس موقع پر پائینئر بزنس مین گروپ کے چیئرمین علی حسام اصغر، فائونڈر گروپ کے چیئرمین شیخ ابراہیم اور سابق نائب صدر حارث عتیق بھی اپنے ساتھیوں کے ہمراہ تقریب میں موجود تھے۔
تاجر برادری کا پیاف پر اعتماد
تاجر رہنمائوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ اجتماع محض ایک ظہرانہ نہیں بلکہ کارپوریٹ کلاس میں پیاف کے اتحاد، تنظیمی قوت اور آزاد کشمیر کے عوام نے الیکشن میں مسلم لیگ (ن) پر اعتماد کا اظہار کر دیا، شہباز شریف کی طرح لاہور چیمبر کی انتخابی تیاریوں کا بھی واضح اظہار ہے۔ مختلف تجارتی حلقوں کی نمائندگی اور بھرپور شرکت نے اس تاثر کو مزید تقویت دی ہے کہ پیاف میاں شفقت گروپ لاہور چیمبر کے آئندہ انتخابات کے لیے پوری طرح متحرک اور منظم ہے۔
انتخابی حکمت عملی اور مستقبل کا لائحہ عمل
تقریب میں موجود تاجر رہنمائوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ پیاف کی مسلسل عوامی رابطہ مہم، مختلف کاروباری تنظیموں کی حمایت اور قیادت کا باہمی اتحاد اسے انتخابی میدان میں ایک مضبوط پوزیشن فراہم کر رہا ہے۔ آزاد کشمیر الیکشن: 33 میں سے 21 نشستیں مسلم لیگ (ن) کے نام، تیسرا مرحلہ 10 اگست کو جیسے انتخابی ماحول کی طرح، پیاف بھی آئندہ انتخابات میں بھرپور مقابلے کے لیے تیار ہے اور تاجر برادری کے اعتماد کے ساتھ میدان میں اترے گی۔
تقریب کے اختتام پر شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ لاہور کی تاجر برادری کے مسائل کے حل، کاروباری ماحول کی بہتری اور لاہور چیمبر کو مزید فعال اور موثر ادارہ بنانے کے لیے پیاف اپنی جدوجہد پوری قوت کے ساتھ جاری رکھے گی، جیسا کہ دیہی معیشت کو مضبوط بنائے بغیر غذائی خودکفالت ممکن نہیں، شاہد عمران کے وژن کے مطابق معاشی استحکام ہی اصل ہدف ہے۔
