حماس کے غیر مسلح ہونے تک غزہ سے انخلا نہیں کریں گے، اسرائیل کا دوٹوک اعلان

حماس کے غیر مسلح ہونے تک غزہ سے انخلا نہیں کریں گے، اسرائیل کا دوٹوک اعلان
*اسلام آباد (نمائندہ خصوصی):* اسرائیل نے واضح کیا ہے کہ جب تک حماس حقیقی معنوں میں اپنے بھاری ہتھیار نہیں چھوڑتی، اسرائیلی فوج غزہ میں اپنی موجودہ دفاعی پوزیشنوں سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ میں جنگ بندی اور امن منصوبے کے حوالے سے بین الاقوامی ثالثی کی کوششیں جاری ہیں۔ امن منصوبے پر پیش رفت
بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق غزہ کے لیے مجوزہ 20 نکاتی امن منصوبے پر اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ حماس نے بین الاقوامی ثالثوں کے ساتھ اس شرط پر اپنے بھاری ہتھیار چھوڑنے پر آمادگی ظاہر کی ہے کہ اسرائیلی فوج مکمل طور پر غزہ سے واپس چلی جائے۔ عمل درآمد پر اختلاف برقرار
اگرچہ مذاکرات میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے، تاہم معاہدے پر عمل درآمد کے طریقہ کار سے متعلق کئی اہم معاملات تاحال طے نہیں ہو سکے۔ ان میں یہ سوالات شامل ہیں کہ حماس کے بھاری ہتھیار کس کے حوالے کیے جائیں گے، ان کی نگرانی کون کرے گا، اور غیر مسلح ہونے اور اسرائیلی فوج کے انخلا میں کون سا مرحلہ پہلے مکمل کیا جائے گا۔ اسرائیل کا سخت مؤقف
ایک سینئر اسرائیلی عہدیدار نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت تک اپنی موجودہ دفاعی پوزیشنوں سے دستبردار نہیں ہوگا جب تک حماس عملی طور پر غیر مسلح ہونے کے واضح اور قابلِ تصدیق اقدامات نہیں اٹھاتی۔ ان کے مطابق اسرائیل کسی بھی ممکنہ معاہدے پر عمل درآمد سے قبل اپنی سکیورٹی کو اولین ترجیح دے گا۔ مذاکرات کا مستقبل
تجزیہ کاروں کے مطابق جنگ بندی اور مستقل امن کے لیے جاری سفارتی کوششوں کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ دونوں فریق غیر مسلح ہونے، اسرائیلی فوج کے انخلا اور سکیورٹی ضمانتوں جیسے بنیادی نکات پر اتفاق رائے پیدا کر پاتے ہیں یا نہیں۔ ان معاملات پر اتفاق کے بغیر کسی بھی ممکنہ معاہدے پر عمل درآمد مشکل دکھائی دیتا ہے۔
