مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 18°C
جمعرات، 29 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 277.05 EUR/PKR 308.71 GBP/PKR 368.89 سونا/تولہ (عالمی) 420,413 PKR Bitcoin $81,037 USD/PKR 277.05 EUR/PKR 308.71 GBP/PKR 368.89 سونا/تولہ (عالمی) 420,413 PKR Bitcoin $81,037
بزنس

سی پیک کے تحت صنعتی و برآمدی شعبے کے فروغ کی ضرورت

📅 ✍️ ⏱ 3 منٹ
سی پیک کے تحت صنعتی و برآمدی شعبے کے فروغ کی ضرورت
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

لاہور (نمائندہ خصوصی)۔ پاکستان انڈسٹری اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشن فرنٹ (پیاف) کے بانی میاں شفقت علی، پیٹرن انچیف انجینئر سہیل لاشاری، چیئرمین سید محمود غزنوی، سینئر وائس چیئرمین خواجہ کاشف الٰہی، وائس چیئرمین راجہ وسیم حسن اور چیئرمین ایسوسی ایٹ کلاس فرخ احسان خان نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے سے بھرپور استفادہ کرنے کے لیے مطلوبہ ادارہ جاتی اصلاحات اور موثر پالیسی سازی پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔ پیاف کے رہنماؤں نے زور دیا کہ حکومت کو آئندہ مرحلے میں صرف انفراسٹرکچر کی تعمیر تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ صنعت، برآمدات اور سرمایہ کاری کے فروغ پر یکساں توجہ دینی ہوگی، کیونکہ پاکستانی بندرگاہیں وسطی ایشیا کے لیے ٹرانزٹ ہب بن سکتی ہیں اگر ہم درست سمت میں پیش قدمی کریں۔

سی پیک کے ثمرات اور صنعتی ترقی

پیاف کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ سستی اور قابل اعتماد توانائی، مسابقتی صنعتی زونز، شفاف پالیسیوں اور بہتر طرزِ حکمرانی کے بغیر سی پیک کی حقیقی صلاحیت سے فائدہ اٹھانا ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ گوادر پورٹ کو فعال تجارتی اور صنعتی مرکز بنانے کے لیے مقامی صنعت، ہنرمند افرادی قوت، جدید لاجسٹکس اور کاروبار دوست ماحول فراہم کیا جانا ناگزیر ہے۔ جس طرح وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان سے کیئرک وفد کی ملاقات میں تجارتی اہداف پر زور دیا گیا، اسی طرح سی پیک کے دوسرے مرحلے میں خصوصی اقتصادی زونز کو جلد فعال بنانے اور مقامی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کو یکساں سہولتیں فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔

پالیسیوں میں تسلسل اور معاشی استحکام

رہنماؤں نے مزید کہا کہ توانائی کے شعبے میں اصلاحات، بجلی کی پیداواری لاگت میں کمی اور نجی شعبے کے لیے آسان کاروباری ماحول پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ جیسا کہ نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن علاقائی تجارت فروغ میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے، احسن اقبال کا ماننا ہے کہ انفراسٹرکچر اور لاجسٹکس کا نیٹ ورک ہی معیشت کا پہیہ گھما سکتا ہے۔ پیاف کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے عوام کو روزگار، تعلیم، صحت اور بنیادی سہولیات میں ترجیحی حصہ دیا جائے تاکہ ترقی کے ثمرات مقامی سطح تک پہنچیں اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا ہو۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پالیسیوں میں تسلسل، شفافیت اور موثر عملدرآمد کے ذریعے ہی سی پیک کو پاکستان کی پائیدار اقتصادی ترقی، صنعتی مسابقت اور برآمدات میں اضافے کا حقیقی ذریعہ بنایا جا سکتا ہے۔

تازہ خبروں کے لیے دوست نیوز کو فالو کریں
🏛️ GOVERNMENT PROJECT

PHA Foundation Flats

Sector I-16, Islamabad

✅ Officially Approved
✅ Easy Installments
✅ No Hidden Charges
Starting from
PKR 60 Lac
View Details →
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں