مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 23°C
بدھ، 28 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 277.05 EUR/PKR 308.71 GBP/PKR 368.89 سونا/تولہ (عالمی) 420,403 PKR Bitcoin $81,238 USD/PKR 277.05 EUR/PKR 308.71 GBP/PKR 368.89 سونا/تولہ (عالمی) 420,403 PKR Bitcoin $81,238
بزنس

وسطی ایشیائی ممالک کی پاکستانی بندرگاہوں تک نئی تجارتی راہداری تلاش

📅 ✍️ ⏱ 5 منٹ
وسطی ایشیائی ممالک کی پاکستانی بندرگاہوں تک نئی تجارتی راہداری تلاش
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وسطی ایشیا کے ممالک پاکستانی بندرگاہوں تک رسائی کے لیے نئی تجارتی راہداری کے قیام کی کوششیں تیز کر رہے ہیں تاکہ عالمی منڈیوں تک کم لاگت اور مختصر فاصلے کے ذریعے رسائی حاصل کی جا سکے۔ تاہم پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدہ تعلقات اس منصوبے کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ بین الاقوامی جریدے آئل پرائس کی رپورٹ کے مطابق خشکی میں گھرے وسطی ایشیائی ممالک، جن میں قازقستان، ازبکستان، ترکمانستان، کرغزستان اور تاجکستان شامل ہیں، بحیرہ عرب تک رسائی کے لیے پاکستان کی کراچی، پورٹ قاسم اور گوادر بندرگاہوں کو انتہائی اہم تجارتی گیٹ وے تصور کرتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق افغانستان کے راستے پاکستان تک پہنچنے والی راہداری ان ممالک کے لیے سب سے مختصر اور کم خرچ راستہ سمجھی جاتی ہے۔

تجارتی فوائد اور علاقائی اہمیت

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر یہ راہداری مکمل طور پر فعال ہو جائے تو وسطی ایشیا کے ممالک کو مشرق وسطیٰ، جنوبی ایشیا، افریقہ اور دیگر عالمی منڈیوں تک براہ راست رسائی حاصل ہو سکے گی، جبکہ پاکستان کو بھی ٹرانزٹ تجارت، بندرگاہی سرگرمیوں اور لاجسٹکس کے شعبے میں نمایاں معاشی فوائد حاصل ہوں گے۔ جیسا کہ نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت سفارتی مشنز کا اجلاس میں خطے کی معاشی صورتحال پر غور کیا گیا، ویسے ہی یہ راہداری پاکستان کے لیے ایک گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے۔

رکاوٹیں اور متبادل راستوں کی تلاش

تاہم رپورٹ کے مطابق حالیہ برسوں میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات میں کشیدگی، سرحدی گزرگاہوں کی بندش اور سکیورٹی خدشات نے اس منصوبے کی رفتار کو متاثر کیا ہے۔ سرحدی پابندیوں کے باعث ٹرکوں کے ذریعے سامان کی نقل و حمل میں رکاوٹیں پیدا ہوئیں، جس سے وسطی ایشیائی ممالک نے متبادل راستوں پر بھی غور شروع کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگرچہ وسطی ایشیائی ریاستیں دیگر راہداریوں، بشمول ایران اور بحیرہ کیسپین کے راستوں، کا جائزہ لے رہی ہیں، تاہم پاکستان کی بندرگاہیں اب بھی جغرافیائی اعتبار سے سب سے موزوں اور اقتصادی طور پر زیادہ مؤثر راستہ تصور کی جاتی ہیں۔

گوادر بندرگاہ کا کردار

رپورٹ میں گوادر بندرگاہ کو خصوصی اہمیت دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ چین۔پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے باعث گوادر مستقبل میں وسطی ایشیا کے لیے ایک اہم علاقائی تجارتی مرکز بن سکتا ہے۔ گوادر کی بحیرہ عرب کے قریب اسٹریٹجک پوزیشن اسے بین الاقوامی بحری تجارتی راستوں سے منسلک کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ جس طرح آئیسکو، فیسکو اور گیپکو کی نجکاری کے لیے اہم پیش رفت جیسے اقدامات حکومتی سطح پر معاشی اصلاحات کے لیے کیے جا رہے ہیں، اسی طرح علاقائی روابط کا فروغ بھی پاکستان کی ترجیح ہے۔ تجزیے کے مطابق اگر افغانستان میں سکیورٹی صورتحال بہتر ہوتی ہے اور پاکستان و افغانستان کے درمیان تجارتی تعاون میں پیش رفت ہوتی ہے تو ٹرانس افغان راہداری نہ صرف وسطی ایشیا بلکہ پورے خطے کی تجارت کا نقشہ تبدیل کر سکتی ہے۔ اس سے پاکستان کی بندرگاہوں پر تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ، ٹرانزٹ فیس کی مد میں آمدنی میں بہتری اور علاقائی اقتصادی انضمام کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔

مستقبل کی حکمت عملی

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ وسطی ایشیائی ممالک اپنی برآمدات کے لیے کسی ایک راستے پر انحصار کم کرنا چاہتے ہیں۔ اسی مقصد کے تحت وہ متبادل تجارتی راہداریوں کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں، تاہم پاکستان تک رسائی کو اب بھی اپنی طویل المدتی تجارتی حکمت عملی کا اہم حصہ قرار دیتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق وسطی ایشیا کو پاکستانی بندرگاہوں سے جوڑنے والا مؤثر زمینی اور ریلوے نیٹ ورک نہ صرف علاقائی تجارت کو نئی جہت دے سکتا ہے بلکہ پاکستان کو بھی ایشیا میں ایک اہم ٹرانزٹ اور لاجسٹکس مرکز کے طور پر ابھرنے کا موقع فراہم کر سکتا ہے۔ جیسے کہ اسحاق ڈار اور اردن کے وزیر خارجہ کی فلسطین صورتحال پر تشویش کے حوالے سے بین الاقوامی سفارت کاری جاری ہے، اسی طرح علاقائی تعاون، سیاسی استحکام، بہتر سکیورٹی اور سرحد پار تجارتی معاہدوں پر مؤثر عمل درآمد ناگزیر ہوگا۔

تازہ خبروں کے لیے دوست نیوز کو فالو کریں
🏛️ GOVERNMENT PROJECT

PHA Foundation Flats

Sector I-16, Islamabad

✅ Officially Approved
✅ Easy Installments
✅ No Hidden Charges
Starting from
PKR 60 Lac
View Details →
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں