مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
اتوار، 4 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.82 EUR/PKR 311.47 GBP/PKR 366.01 سونا/تولہ 429,945 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,749 USD/PKR 276.82 EUR/PKR 311.47 GBP/PKR 366.01 سونا/تولہ 429,945 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,749
عالمی

ٹرمپ نے ترکیہ کو ایف-35 طیاروں کی فروخت پر نیتن یاہو کی مخالفت مسترد کر دی

📅 منگل، 28 جولائی 2026 ✍️ Dost news ⏱ 4 منٹ
ٹرمپ نے ترکیہ کو ایف-35 طیاروں کی فروخت پر نیتن یاہو کی مخالفت مسترد کر دی
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

واشنگٹن (نمائندہ خصوصی)۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکیہ کو جدید ایف-35 اسٹیلتھ لڑاکا طیاروں کی ممکنہ فروخت کے معاملے پر اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی مخالفت کو ایک بار پھر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کو کوئی یہ نہیں بتا سکتا کہ وہ کس ملک کو کیا فروخت کرے اور کیا نہ کرے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ترکیہ امریکا کا ایک اہم اور قابلِ اعتماد اتحادی ہے، جس نے شام سمیت مختلف علاقائی معاملات میں مثبت کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن اور انقرہ کے درمیان دوطرفہ تعلقات مضبوط ہیں اور انہیں مزید فروغ دیا جائے گا۔ یہ طاقتور حلقے کے سیاسی اثرات سے قطع نظر ایک تزویراتی فیصلہ ہے۔

ایف-35 اور ترکیہ کے ساتھ دفاعی شراکت داری

صدر ٹرمپ نے تسلیم کیا کہ ترکیہ اسرائیل یا وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کا قریبی حامی نہیں، تاہم اس کے باوجود امریکا اور ترکیہ کے درمیان دفاعی اور تزویراتی شراکت داری اپنی اہمیت برقرار رکھتی ہے۔ یاد رہے کہ نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر بھی صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ان کی انتظامیہ ترکیہ کو ایف-35 طیاروں کی فروخت دوبارہ شروع کرنے کے امکان پر سنجیدگی سے غور کرے گی۔ جیسا کہ وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان سے آذربائیجان کے سفیر کی ملاقات میں باہمی تعلقات کی اہمیت پر زور دیا گیا، اسی طرح امریکا بھی انقرہ کے ساتھ دفاعی تعاون کو وسعت دینے کا خواہاں ہے۔

ترک صدر رجب طیب اردوان کا ردعمل

دوسری جانب ترک صدر رجب طیب اردوان کا کہنا ہے کہ امریکی صدر نے ایف-35 طیاروں کی فراہمی کے معاملے پر مثبت رویہ اختیار کیا ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان اس معاملے پر رابطے جاری ہیں اور انہیں امید ہے کہ جلد مثبت پیش رفت سامنے آئے گی۔ صدر ٹرمپ کے حالیہ بیانات نے ان میڈیا رپورٹس کو بھی تقویت دی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ وہ ترکیہ کو ایف-35 طیارے فروخت کرنے کی تجویز پر نیتن یاہو کی کھلی مخالفت سے ناخوش تھے اور ان کا خیال تھا کہ اس فیصلے کا تعین امریکا اپنے قومی مفادات کے مطابق کرے گا، بالکل اسی طرح جیسے وزیر اعظم کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے توانائی کا اہم اجلاس ملکی مفادات کے پیش نظر منعقد کیا جاتا ہے۔

ایس-400 اور ایف-35 تنازعہ

واضح رہے کہ 2019 میں صدر ٹرمپ کی پہلی مدتِ صدارت کے دوران امریکا نے روس سے ایس-400 فضائی دفاعی میزائل نظام خریدنے پر اعتراض کرتے ہوئے ترکیہ کو ایف-35 پروگرام سے خارج کر دیا تھا۔ واشنگٹن کا مؤقف تھا کہ روسی دفاعی نظام کی موجودگی جدید ایف-35 طیاروں کی حساس ٹیکنالوجی کے لیے سکیورٹی خطرہ بن سکتی ہے۔ ترکیہ نے ہمیشہ امریکی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایس-400 اور ایف-35 نظام ایک دوسرے کے لیے خطرہ نہیں ہیں۔ انقرہ نے اس معاملے کا تکنیکی جائزہ لینے کے لیے مشترکہ کمیشن بنانے کی بھی تجویز دی تھی۔ ترک حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے ایف-35 پروگرام کے تحت اپنی تمام مالی اور تکنیکی ذمہ داریاں پوری کی تھیں، اس لیے پروگرام سے اس کی معطلی غیرمنصفانہ اور قواعد کے منافی تھی۔ ترکیہ کا مؤقف ہے کہ ایف-35 طیاروں کی فراہمی نہ صرف اس کی دفاعی صلاحیت میں اضافہ کرے گی بلکہ نیٹو کے اجتماعی دفاع اور خطے میں سکیورٹی و استحکام کو بھی مزید مضبوط بنائے گی۔

ٹیگز: #امریکی دفاعی پالیسی #ایف-35 #ترکیہ #ڈونلڈ ٹرمپ #نیتن یاہو
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں