چینی کپڑے کی سستی درآمدات سے مقامی ٹیکسٹائل صنعت کو سنگین خطرات
لاہور (نمائندہ خصوصی)۔ پاکستان کی کپاس اور ٹیکسٹائل صنعت نے چینی کپڑے کی سستی درآمدات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کم قیمت پر درآمد ہونے والا کپڑا مقامی صنعت، ٹیکسٹائل ملوں اور کپاس کے کاشتکاروں کے لیے سنگین مشکلات پیدا کر رہا ہے۔ یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک پہلے ہی پاکستان اور قازقستان کا تعلیمی و سائنسی تعاون بڑھانے پر اتفاق جیسے امور پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔
ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن اسکیم میں مبینہ بے ضابطگیاں
پاکستان کاٹن جنرز فورم کے چیئرمین احسان الحق کا کہنا ہے کہ چین سے ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن اسکیم (EFS) کے تحت درآمد کیا جانے والا بعض کپڑا مبینہ طور پر کم قیمت ظاہر (انڈر انوائسنگ) کر کے اوپن مارکیٹ میں فروخت کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اسکیم کے تحت ہونے والی تمام درآمدات کا جامع آڈٹ کرایا جائے اور بے ضابطگیوں کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
صنعت کو درپیش چیلنجز اور مسابقت کا بحران
صنعتی نمائندوں کا کہنا ہے کہ کپاس کا شعبہ پہلے ہی کم پیداوار، بجلی اور گیس کی بڑھتی قیمتوں، زیادہ ٹیکسوں اور مہنگی فنانسنگ جیسے مسائل سے دوچار ہے۔ جس طرح ماضی میں یوفون اور ٹیلی نار انضمام: حکومت کی ای اینڈ برانڈنگ پر پابندی کے بعد کاروباری ماحول پر اثرات مرتب ہوئے، اسی طرح سستے درآمدی کپڑے کی فروخت سے مقامی صنعت کی مسابقت بری طرح متاثر ہو رہی ہے اور ملکی کپاس کی پیداوار مزید دباؤ میں آ سکتی ہے۔
موسمیاتی اثرات اور مستقبل کے خدشات
جنرز نے حالیہ بارشوں اور کپاس پیدا کرنے والے علاقوں میں ممکنہ سیلاب پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر موسم کی صورتحال خراب رہی تو کھڑی فصل کو نقصان پہنچ سکتا ہے، جس سے پیداوار مزید کم ہونے کا خدشہ ہے۔ یاد رہے کہ ملک کی معیشت کے لیے زرعی تحفظ اسی قدر اہم ہے جس طرح کامن ویلتھ گیمز 2026 میں ارشد ندیم سمیت پاکستانی ایتھلیٹس کا ایکشن جیسے قومی وقار کے حامل معاملات ہیں۔ آخر میں، صنعت سے وابستہ حلقوں نے حکومت پر زور دیا ہے کہ ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن اسکیم کی مؤثر نگرانی کو یقینی بنایا جائے، منصفانہ تجارتی ماحول قائم کیا جائے اور مقامی کپاس و ٹیکسٹائل صنعت کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
