چار سالہ ایل ایل بی پروگرام کا نوٹیفکیشن جعلی قرار، ایچ ای سی کی وضاحت

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے چار سالہ ایل ایل بی پروگرام سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے مبینہ نوٹیفکیشن کو جعلی قرار دیتے ہوئے طلبہ، جامعات اور عوام کو غیر مصدقہ معلومات پر یقین نہ کرنے کی سخت ہدایت کی ہے۔ حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر ایک جعلی دستاویز وائرل ہوئی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ملک بھر میں پانچ سالہ ایل ایل بی پروگرام کو چار سالہ کر دیا گیا ہے اور اس حوالے سے نئی تعلیمی پالیسی فوری طور پر نافذ العمل ہے۔
ایچ ای سی کا مؤقف اور تردید
ہائر ایجوکیشن کمیشن نے اس معاملے پر اپنا موقف واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی یہ دستاویز مکمل طور پر من گھڑت ہے۔ کمیشن نے تصدیق کی ہے کہ ایل ایل بی پروگرام کے دورانیے میں تبدیلی یا نصاب میں ردوبدل کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا اور نہ ہی اس ضمن میں کوئی باضابطہ نوٹیفکیشن جاری ہوا ہے۔ ایچ ای سی نے کہا کہ ملک میں ایف بی آر اصلاحات، کیش لیس معیشت پر تیزی سے کام جاری، محمد اورنگزیب کی طرح دیگر اہم تعلیمی فیصلوں کو شفافیت کے ساتھ عوام تک پہنچایا جاتا ہے۔
طلبہ و جامعات کے لیے اہم ہدایات
کمیشن کا کہنا ہے کہ ایل ایل بی پروگرام کے دورانیے، داخلہ قواعد یا نصاب میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کا اعلان صرف سرکاری ذرائع سے ہی کیا جاتا ہے۔ اسی تناظر میں ایچ ای سی نے طلبہ، اساتذہ، والدین اور جامعات سے اپیل کی ہے کہ وہ تعلیمی پالیسیوں، نئے پروگراموں یا نوٹیفکیشنز سے متعلق معلومات کے حصول کے لیے صرف ایچ ای سی کی سرکاری ویب سائٹ اور آفیشل سوشل میڈیا ہینڈلز پر ہی انحصار کریں۔ یاد رہے کہ ماضی میں بھی مختلف تعلیمی شعبوں میں ایسی افواہیں گردش کرتی رہی ہیں، جیسا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں 26 اور 27 جولائی کے لیے برقرار رکھنے کے حوالے سے درست معلومات کا انحصار بھی صرف سرکاری اعلامیوں پر ہوتا ہے۔
گمراہ کن معلومات کی روک تھام
ایچ ای سی نے خبردار کیا ہے کہ جعلی نوٹیفکیشنز اور گمراہ کن معلومات طلبہ میں غیر ضروری تشویش پیدا کرنے کا باعث بنتی ہیں۔ کمیشن نے سختی سے ہدایت کی ہے کہ ایسے غیر مصدقہ مواد کی تشہیر سے گریز کیا جائے کیونکہ اس سے تعلیمی نظام میں ابہام پیدا ہوتا ہے۔ طلبہ کو چاہیے کہ وہ اپنی تعلیم پر توجہ دیں اور کسی بھی پالیسی تبدیلی کی صورت میں ایچ ای سی کے باضابطہ اعلامیے کا انتظار کریں۔ واضح رہے کہ تعلیمی اداروں کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ غیر تصدیق شدہ دستاویزات کی بنیاد پر اپنے قواعد و ضوابط میں کوئی تبدیلی نہ لائیں۔ کسی بھی ملک کی ترقی کے لیے تعلیمی ڈھانچے کا مستحکم ہونا ضروری ہے، جس طرح ملکی ترقی کیلئے برآمدات پر مبنی معیشت تشکیل دینا ہوگی، احسن اقبال نے اپنے حالیہ بیان میں اس بات پر زور دیا ہے۔
