وجیہہ قمر اور قازق وزیر کی تعلیمی اور تحقیقی تعاون بڑھانے پر اتفاق
آستانہ (نمائندہ خصوصی)۔ وزیر مملکت برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت وجیہہ قمر نے جمہوریہ قازقستان کے وزیر سائنس و اعلیٰ تعلیم سیاسات نوربیک سے اہم ملاقات کی، جس میں اعلیٰ تعلیم، سائنس، تحقیق، اختراع اور ہنر کی ترقی کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے فروغ پر اتفاق کیا گیا۔
تعلیمی تعاون اور قومی اہداف
ملاقات کے دوران وزیر مملکت وجیہہ قمر نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں حکومت نے ملک میں تعلیمی معیار کو بہتر بنانے، تعلیم تک رسائی بڑھانے، اختراع کے فروغ اور نوجوانوں کو عالمی معیار کی مہارتوں سے آراستہ کرنے کے لیے «تعلیمی ہنگامی حالت» کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان قومی اہداف کے حصول کے لیے بین الاقوامی تعلیمی شراکت داری نہایت اہم ہے۔ یاد رہے کہ ملک میں جدید تحقیق اور سائنسی ترقی کے حوالے سے سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کا مسلم دنیا میں سائنسی تحقیق پر زور پہلے ہی سے ایک اہم موضوع بحث رہا ہے۔
مشترکہ حکمت عملی اور تبادلے
دونوں وزراء نے پاکستان اور قازقستان کے درمیان اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں تعاون بڑھانے، اساتذہ اور طلبہ کے تبادلوں، مشترکہ اور دوہری ڈگری پروگراموں، تحقیقی منصوبوں، جامعات کے مابین روابط اور ادارہ جاتی اشتراک کو مزید فروغ دینے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ جس طرح مختلف شعبوں میں ادارے مل کر کام کر رہے ہیں، اس حوالے سے زینتھ پی آر اور آئی او بی ایم کا اسٹریٹجک کمیونیکیشنز میں اشتراک ایک بہترین مثال کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
قازقستان کے ماڈل سے استفادہ
وجیہہ قمر نے قازقستان کی جانب سے اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں اصلاحات، عالمی شہرت یافتہ جامعات کو راغب کرنے، جامعات کو خودمختاری دینے، تحقیق اور اختراع کے فروغ، ڈیجیٹل تبدیلی اور تعلیمی پروگراموں کو بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ کرنے کے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ تجربات پاکستان کے لیے بھی نہایت مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان تعلیمی سفارت کاری کے فروغ کے لیے پرعزم ہے اور تعلیم، تحقیق اور اختراع کے ذریعے عوامی روابط کو مزید مضبوط بنانا چاہتی ہے۔
تعلیمی مستقبل کے اہداف
وزیر مملکت نے پاکستانی طلبہ اور محققین کے لیے قازقستان میں اعلیٰ اور بعد از گریجویٹ تعلیم کے مزید مواقع فراہم کرنے اور دونوں ممالک کے تعلیمی اداروں کے درمیان باہمی تعاون بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ جس طرح وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگ زیب کی امریکی ہم منصب سے اہم ملاقات نے معاشی تعلقات کو نئی جہت دی، اسی طرح تعلیمی میدان میں یہ پیش رفت پاکستان کے لیے نئے دروازے کھولے گی۔ ملاقات کے اختتام پر دونوں ممالک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اعلیٰ تعلیم، سائنس، تحقیق اور اختراع کے شعبوں میں مشترکہ منصوبوں، جامعات کے درمیان شراکت داری، تعلیمی تبادلوں اور سائنسی تعاون کو عملی شکل دے کر پاکستان اور قازقستان کے دیرینہ دوستانہ تعلقات کو مزید مستحکم بنایا جائے گا۔
