باغبانی صحت مند اور طویل زندگی کا بہترین ذریعہ، ماہرین کی تصدیق

واشنگٹن (نمائندہ خصوصی)۔ باغبانی کو محض ایک تفریحی مشغلہ نہیں بلکہ اب اسے جسمانی، ذہنی اور دماغی صحت کو بہتر بنانے کا ایک مؤثر ترین ذریعہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق پودے لگانا، مٹی میں کام کرنا، سرسبز ماحول میں وقت گزارنا اور باقاعدگی سے باغ کی دیکھ بھال نہ صرف روزمرہ کی جسمانی سرگرمیوں میں اضافہ کرتی ہے بلکہ تناؤ میں کمی، بہتر دماغی صلاحیتوں اور ایک طویل، صحت مند زندگی کے حصول میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ جیسا کہ دو پنکھوں کی درست ترتیب سے گھر کو ٹھنڈا رکھنے کا طریقہ اور دیگر گھریلو انتظام کے معاملات ماحولیاتی بہتری کا باعث بنتے ہیں، اسی طرح باغبانی کا براہِ راست تعلق انسان کی اندرونی صحت سے جڑا ہوا ہے۔
باغبانی، ورزش اور جسمانی تندرستی کا امتزاج
نیشنل جیوگرافک کی رپورٹ کے مطابق باغبانی ایک ایسی ہمہ جہت سرگرمی ہے جو بیک وقت ہلکی ورزش، ذہنی مشق اور قدرتی ماحول سے قربت فراہم کرتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ باغبانی کے دوران انسانی جسم کے مختلف عضلات متحرک ہوتے ہیں، جس سے دل کی کارکردگی بہتر ہوتی ہے، خون کی روانی میں بہتری آتی ہے اور جسمانی لچک برقرار رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر ماہرینِ صحت باغبانی کو معتدل جسمانی ورزش کی ایک مؤثر ترین شکل تسلیم کرتے ہیں۔
ذہنی سکون اور اعصابی توازن
ماہرین کے مطابق باغبانی ذہنی صحت پر بھی انتہائی مثبت اثرات مرتب کرتی ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ مٹی میں موجود بعض مفید جراثیم انسانی دماغ میں ‘سیروٹونن’ جیسے خوشی کے احساس سے وابستہ ہارمون کی پیداوار بڑھانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں، جبکہ سرسبز ماحول میں وقت گزارنے سے ذہنی دباؤ، بے چینی اور ڈپریشن کی علامات میں واضح کمی آ سکتی ہے۔ باغبانی نیند کے معیار کو بہتر بنانے اور روزمرہ زندگی کے تناؤ سے نجات دلانے میں بھی کلیدی معاون سمجھی جاتی ہے۔
دماغی افعال اور طویل عمر کا تعلق
رپورٹ کے مطابق باقاعدگی سے باغبانی کرنے والے افراد میں یادداشت، توجہ، فیصلہ سازی اور مسائل حل کرنے کی صلاحیت نسبتاً بہتر دیکھی گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ باغبانی دماغی افعال کو متحرک رکھنے میں معاون ثابت ہوتی ہے اور الزائمر یا دیگر دماغی امراض کے خطرات کو کم کرنے میں بھی کردار ادا کر سکتی ہے، اگرچہ اس ضمن میں مزید سائنسی تحقیق کا عمل جاری ہے۔
مزاج اور طرزِ زندگی میں مثبت تبدیلی
تحقیقی جائزوں میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ باغبانی کرنے والے افراد عموماً زیادہ متحرک طرزِ زندگی اپناتے ہیں، جس کے نتیجے میں ان میں موٹاپا، بلند فشار خون، دل کی بیماریوں اور ٹائپ ٹو ذیابیطس جیسے امراض کا خطرہ کافی حد تک کم ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، گھر میں اگائی گئی تازہ سبزیاں، پھل اور جڑی بوٹیاں صحت بخش اور نامیاتی غذا کے استعمال کو فروغ دیتی ہیں۔
باغبانی کے لیے جگہ کی قید نہیں
ماہرین کا کہنا ہے کہ باغبانی کے طبی فوائد حاصل کرنے کے لیے کسی بہت بڑے باغ کی ضرورت نہیں ہے۔ گھر کی چھت، بالکونی، چھوٹا صحن یا حتیٰ کہ چند گملوں میں پودے اگانا بھی جسمانی اور ذہنی صحت پر گہرے اور مثبت اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق روزانہ صرف 20 سے 30 منٹ باغبانی کے لیے وقف کرنا نہ صرف جسم کو متحرک رکھتا ہے بلکہ ذہنی سکون، بہتر موڈ اور مجموعی معیارِ زندگی میں نمایاں بہتری لا سکتا ہے۔ ماہرین کا مشورہ ہے کہ بچوں اور بزرگوں کو بھی ان سرگرمیوں میں شامل کیا جائے، کیونکہ یہ نہ صرف فطرت سے تعلق کو مضبوط کرتی ہے بلکہ خاندان کے افراد کے درمیان مثبت سماجی روابط، ذمہ داری کے احساس اور ماحول دوست طرزِ زندگی کو فروغ دیتی ہے۔
