سید یوسف رضا گیلانی کا پاکستان کینیڈا تعلقات مستحکم کرنے پر زور
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کینیڈا کی وزیرِ خارجہ محترمہ انیتا آنند کے اعزاز میں منعقدہ استقبالیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان، پارلیمانی سفارتکاری، تجارت کے فروغ اور عوامی روابط کو مزید وسعت دے کر کینیڈا کے ساتھ اپنی دیرینہ دوستی کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کینیڈا کے ساتھ اقتصادی شراکت داری کے فروغ میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت پاکستان کی سفارتی حکمت عملی کو کلیدی قرار دیا۔ چیئرمین سینیٹ نے محترمہ انیتا آنند کو پاکستان کے پہلے سرکاری دورے پر خوش آمدید کہتے ہوئے سینیٹ، پارلیمنٹ اور عوامِ پاکستان کی جانب سے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور کینیڈا کے درمیان تقریباً آٹھ دہائیوں پر محیط دوستانہ تعلقات باہمی احترام، مشترکہ مفادات، تعمیری سیاسی مکالمے، بڑھتے ہوئے اقتصادی تعاون، تعلیمی تبادلوں اور کینیڈا میں مقیم متحرک پاکستانی کمیونٹی کی گراں قدر خدمات پر استوار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دوطرفہ تجارت پاکستان اور کینیڈا کے تعلقات کا بنیادی ستون ہے اور کینیڈا پاکستان کے قابلِ اعتماد اقتصادی شراکت داروں میں شامل ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ کینیڈا سے درآمد کی جانے والی زرعی اجناس، خصوصاً کینولا، سویابین اور چنے، پاکستان کی غذائی سلامتی، زرعی شعبے اور صنعتی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
پارلیمانی سفارتکاری کا فروغ
چیئرمین سینیٹ نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور وزیر خارجہ انیتا آنند کے اوٹاوا میں ہونے والے مذاکرات کے مثبت نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعاون کو مزید تقویت ملی ہے۔ انہوں نے 12 جنوری 2026 کو کراچی بندرگاہ پر کینیڈین کینولا کی پہلی کھیپ کی آمد کو اقتصادی تعاون کے فروغ کی ایک اہم علامت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں پارلیمانی سفارتکاری کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے اور پارلیمانیں مکالمے، باہمی اعتماد، امن اور پائیدار ترقی کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں۔ بین الپارلیمانی اسپیکرز کانفرنس (ISC) کے بانی چیئرمین کی حیثیت سے انہوں نے کینیڈا کو اس فورم میں فعال شرکت کی دعوت دی۔
تجارتی و اقتصادی تعاون کے امکانات
چیئرمین سینیٹ نے توانائی، صاف ٹیکنالوجی، کان کنی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، ٹیکسٹائل، سرمایہ کاری اور اختراع جیسے شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات کی نشاندہی کی۔ انہوں نے کہا کہ کینیڈا کی جدید تکنیکی مہارت اور پاکستان کی نوجوان افرادی قوت باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہیں۔ انہوں نے بطور وزیراعظم اپنے دور میں کینیڈا کے سابق وزیر برائے شہریت، امیگریشن و کثیرالثقافتی امور جیسن کینی سے ہونے والی ملاقات کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کیلئے اہم مفاہمتی یادداشت طے پانے جیسے اقدامات سے ٹیکنالوجی کے تبادلے کی راہ ہموار ہوگی۔ انہوں نے سینیٹر سلیم مانڈوی والا، کینیڈا۔پاکستان فرینڈشپ گروپ کی چیئر رکن پارلیمنٹ سلمیٰ زاہد اور سینیٹر سلمیٰ عطاء اللہ جان کی خدمات کو بھی سراہا۔
عالمی چیلنجز اور سفارتی تعلقات
چیئرمین سینیٹ نے اقوام متحدہ، بین الپارلیمانی یونین (IPU)، دولتِ مشترکہ پارلیمانی ایسوسی ایشن (CPA) اور دولتِ مشترکہ سمیت مختلف کثیرالجہتی فورمز پر پاکستان اور کینیڈا کے درمیان تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے ملاقات کے دوران مسئلہ جموں و کشمیر پر پاکستان کے اصولی مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ جاپان کے وزیر انصاف سے پاکستانی سفیر عبد الحمید کی ملاقات کی طرح بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی سفارتی سرگرمیاں ملک کے تشخص کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو رہی ہیں۔ اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے کینیڈا کے سابق وزیراعظم لیسٹر بی پیئرسن کا قول نقل کرتے ہوئے کہا کہ پائیدار امن صرف اقوام کے درمیان بہتر باہمی فہم و ادراک سے ہی ممکن ہے۔
