وزیراعظم شہباز شریف سے ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی کی ملاقات
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف سے ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے منگل کو وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کی۔ وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کے مطابق ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس ملاقات کے دوران پاکستان کی سفارتی حکمت عملی کے تناظر میں دونوں برادر ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم کرنے پر زور دیا گیا۔
ایرانی وفد کی تشکیل اور دورے کا پس منظر
ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ پاکستان کے سرکاری دورے پر ہیں۔ ان کے وفد میں صوبہ سیستان و بلوچستان کے گورنر جنرل، ایران کے نائب وزیر داخلہ، نائب وزیر برائے اربن ڈویلپمنٹ و ٹرانسپورٹ، نیشنل ایرانی آئل کمپنی کے سربراہ، وزیر زراعت کے خصوصی نمائندے اور دیگر اعلیٰ حکام شامل ہیں۔ یہ دورہ دونوں ممالک کے مابین جاری تعاون کے تسلسل کی ایک کڑی ہے، جس کے تحت چین میں پاکستانی سفیر کی ملاقات کی طرز پر خطے میں رابطوں کو وسعت دینے پر بات چیت کی جا رہی ہے۔
سکیورٹی اور سرحدی تعاون پر اہم پیشرفت
دورے کے دوران ایرانی وزیر داخلہ نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے بھی تفصیلی ملاقات کی، جس میں پاک ایران تعلقات، سرحدی تعاون، تجارت، سکیورٹی، غیر قانونی امیگریشن، انسانی سمگلنگ، سائبر کرائم اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تعاون بڑھانے اور جلد مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کرنے پر بھی اتفاق کیا۔ یاد رہے کہ حالیہ عرصے میں پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کیلئے اہم مفاہمتی یادداشت طے پا چکی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان ہر شعبے میں عالمی شراکت داری کو اہمیت دے رہا ہے۔
مستقبل کے عزم اور علاقائی استحکام
اسکندر مومنی کے دورۂ پاکستان کو دونوں برادر ہمسایہ ممالک کے درمیان دوطرفہ تعاون، سرحدی روابط، تجارت، توانائی اور علاقائی رابطوں کو مزید مضبوط بنانے کی کوششوں کا اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان اور ایران مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ اور خطے میں امن و استحکام کے لیے قریبی رابطے برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
