ایس ای سی پی کی تصدیق انفارمیشن سروسز کے آئی پی او کی منظوری
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے تصدیق انفارمیشن سروسز لمیٹڈ کے ابتدائی عوامی پیشکش (آئی پی او) کے پراسپیکٹس کی اشاعت اور اجراء کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔ فروری 2026 میں نئی انتظامیہ کے قیام کے بعد سے ایس ای سی پی کی جانب سے قومی آبادی استحکام منصوبہ 2026-2036 کے مسودے پر اعلیٰ سطحی جائزہ لینے جیسے اقدامات کی طرح سرمایہ کاری کے شعبے میں بھی اصلاحات کا عمل تیز تر ہوا ہے، جس کے نتیجے میں اب تک 10 آئی پی اوز کامیابی سے مارکیٹ میں متعارف کرائے جا چکے ہیں۔ یہ مالی سال 2026-27 کا پہلا منظور شدہ آئی پی او ہے۔
تصدیق انفارمیشن سروسز: ایک تعارف
تصدیق انفارمیشن سروسز لمیٹڈ اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے لائسنس یافتہ ایک اہم کریڈٹ بیورو ہے، جو انفرادی اور کاروباری قرض داروں کی مالی معلومات کو یکجا کر کے اپنے رکن مالیاتی اداروں کو فراہم کرتی ہے، تاکہ قرض کے اجراء کے حوالے سے فیصلے بہتر اور شفاف انداز میں کیے جا سکیں۔ اس پیشکش کے ذریعے کمپنی مجموعی طور پر 21 کروڑ 90 لاکھ عام حصص مارکیٹ میں لا رہی ہے۔
آئی پی او کی تفصیلات اور شفافیت
منصوبے کے تحت 6 کروڑ 90 لاکھ حصص پری-آئی پی او سرمایہ کاروں کے لیے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ 15 کروڑ حصص (جو کہ پوسٹ-آئی پی او سرمائے کا 15.79 فیصد بنتے ہیں) آئی پی او کے ذریعے پیش کیے جائیں گے۔ یہ آئی پی او بک بلڈنگ کے طریقہ کار کے تحت مکمل کیا جائے گا، جس میں 75 فیصد حصص ادارہ جاتی اور بڑے سرمایہ کاروں کے لیے، جبکہ 25 فیصد عام ریٹیل سرمایہ کاروں کے لیے مخصوص کیے گئے ہیں۔
ریگولیٹری اصلاحات اور مارکیٹ پر اثرات
یہ منظوری اس بات کی عکاس ہے کہ ایس ای سی پی کا موجودہ ریگولیٹری نظام شفافیت اور سرمایہ کاروں کے تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے ملکی معیشت میں سرمائے کی تشکیل کے لیے انتہائی فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت پاکستان کی سفارتی حکمت عملی اور معاشی استحکام کے اہداف کے تناظر میں، سادہ تقاضوں، تیز رفتار منظوریوں اور ڈیجیٹلائزیشن پر مبنی اصلاحات نے کمپنیوں کے لیے کیپیٹل مارکیٹ تک رسائی کو آسان بنایا ہے۔ مزید برآں، ایس ای سی پی مارکیٹ شراکت داروں کے تعاون سے ملک بھر میں آئی پی او روڈ شوز کا انعقاد بھی جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ کمپنیوں کو عوامی لسٹنگ کے طویل المدتی فوائد سے آگاہ کیا جا سکے۔ یاد رہے کہ حال ہی میں وفاقی وزیر علی پرویز ملک کی کے یو ایف پی ای سی کے نائب صدر سے ملاقات کے دوران بھی معاشی بہتری کے انہی پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔
