ایزی پیسہ کی ای ایف یو لائف سے شراکت داری، تکافل متعارف

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ پاکستان کے پہلے ڈیجیٹل بینک، ایزی پیسہ نے ای ایف یو لائف کے ساتھ ایک اہم شراکت داری کا اعلان کیا ہے جس کے تحت صارفین کے لیے ایک جدید ‘اسلامک تکافل سیونگ سلوشن’ متعارف کرایا گیا ہے۔ اس پیش رفت کے ساتھ ہی الیکشن کمیشن کی سیاسی جماعتوں کو مالی گوشوارے جمع کرانے کی ہدایت کی طرح مالیاتی شفافیت اور ڈیجیٹل خدمات کے فروغ کا ایک نیا دور شروع ہوا ہے۔
ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر شریعہ کمپلائنٹ بچت
ایزی پیسہ نے اپنی موبائل ایپلیکیشن میں اسلامی تکافل سیونگز سلوشن پیش کرکے شریعت کے مطابق بچت کو انتہائی آسان اور مکمل طور پر ڈیجیٹل بنا دیا ہے۔ یہ اقدام مالی شمولیت کو بڑھانے اور ڈیجیٹل ذرائع سے اسلامی مالیاتی مصنوعات تک رسائی کو عام کرنے کے لیے ایک کلیدی قدم ہے۔ بچت اور مالی تحفظ کو ایک ہی پلیٹ فارم پر اکٹھا کرکے ایزی پیسہ نے لاکھوں پاکستانیوں کے لیے مالی منصوبہ بندی کے عمل کو سودمند اور قابلِ رسائی بنا دیا ہے۔
8 فیصد تک حلال منافع اور تکافل تحفظ
اس نئی سہولت کے ذریعے صارفین 8 فیصد تک حلال منافع حاصل کر سکتے ہیں، جس کے ساتھ انہیں تکافل کا تحفظ بھی حاصل ہوگا۔ صارفین اب براہِ راست ایپ سے بچت کا عمل شروع کر سکتے ہیں، جبکہ کمپنی کی جانب سے صارفین کو مفت عمرہ ٹرپ جیتنے کا موقع بھی فراہم کیا جا رہا ہے، جس سے یہ مالی منصوبہ بندی مزید بامقصد بن گئی ہے۔ جیسے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت پاکستان ریلویز ٹرانسفارمیشن پلان کا جائزہ لیا گیا، اسی طرح مالیاتی شعبے میں یہ جدت ڈیجیٹل پاکستان کے وژن کو تقویت دیتی ہے۔
قیادت کے تاثرات
ایزی پیسہ ڈیجیٹل بینک کے سی ای او جہانزیب خان نے کہا کہ اسلامی تکافل کا اجراء ہماری ویلتھ مینجمنٹ کی پیشکشوں کو مزید مستحکم کرتا ہے۔ ای ایف یو لائف کے منیجنگ ڈائریکٹر محمد علی احمد نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اس شراکت داری پر فخر ہے جس سے شریعہ کمپلائنٹ مالی تحفظ کے خواہشمند صارفین تک رسائی ممکن ہوگی۔ یہ اقدام اسحاق ڈار اور کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند کے مذاکرات کے تناظر میں معاشی استحکام کی جانب ایک اور مثبت قدم ہے۔
مستقبل کا عزم
چھ کروڑ سے زائد رجسٹرڈ صارفین کے ساتھ، ایزی پیسہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جامع اور پائیدار معاشی ترقی کے وژن سے مکمل ہم آہنگ ہے۔ ادارہ اپنی خدمات کو ان لاکھوں افراد تک پہنچانے کے لیے پرعزم ہے جو ابھی تک بینکاری سہولتوں سے محروم ہیں یا محدود رسائی رکھتے ہیں۔
