وفاقی وزیر اعظم نذیر تارڑ اور اقوام متحدہ کے وفد کی ملاقات
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ اقوام متحدہ کی خواتین کی تنظیم (UN Women) کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے چیف آف اسٹاف، جناب محمد نصیری نے آج وفاقی وزیر قانون، انصاف و انسانی حقوق، سینیٹر اعظم نذیر تارڑ سے وزارتِ انسانی حقوق میں ملاقات کی۔ اس اہم ملاقات میں حکومتِ پاکستان اور UN Women کے درمیان خواتین کے حقوق، صنفی مساوات، خواتین و بچیوں کو بااختیار بنانے اور جامع طرزِ حکمرانی کے فروغ کے لیے جاری شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفاقی وزیر نے ماضی میں الیکشن کمیشن کی سیاسی جماعتوں کو مالی گوشوارے جمع کرانے کی ہدایت کے تناظر میں ملک میں شفافیت اور آئینی عمل کی اہمیت پر زور دیا، جبکہ بین الاقوامی سطح پر اسحاق ڈار اور کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند کے مذاکرات جیسے دیگر اہم سفارتی اقدامات کی روشنی میں پاکستان کے مثبت تشخص کو اجاگر کرنے کا اعادہ کیا۔ UN Women کے وفد میں پاکستان میں UN Women کے کنٹری نمائندے جناب جمشید ایم۔ قاضی اور ڈپٹی کنٹری نمائندہ محترمہ فہمیدہ اقبال خان بھی شامل تھیں۔
خواتین کے حقوق اور قومی پالیسی کا جائزہ
وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے پاکستان کے ساتھ UN Women کے مسلسل تعاون کو سراہا اور خواتین کے حقوق کے تحفظ، صنفی مساوات کے فروغ، انصاف تک رسائی بہتر بنانے اور مؤثر پالیسی سازی کے لیے وزارتِ انسانی حقوق اور UN Women کے درمیان قریبی اشتراک پر روشنی ڈالی۔ ملاقات کے دوران خواتین اور بچیوں کے خلاف تشدد کے خاتمے سے متعلق قومی پالیسی (National Policy on Ending Violence Against Women and Girls – EVAWG) پر ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا، جسے UN Women کی تکنیکی معاونت سے صوبائی حکومتوں، سول سوسائٹی اور ماہرینِ تعلیم سے وسیع مشاورت کے بعد تیار کیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر نے اس جامع قومی پالیسی کو جلد حتمی شکل دینے اور اس پر مؤثر عمل درآمد کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔ سارک کانفرنس اور علاقائی تعاون فریقین نے آئندہ منعقد ہونے والی سارک کانفرنس پر بھی تبادلۂ خیال کیا اور اسے جنوبی ایشیا میں صنفی مساوات، خواتین کے حقوق اور جامع ترقی کے فروغ کے لیے علاقائی تعاون کا ایک اہم پلیٹ فارم قرار دیا۔ اس کے علاوہ، نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار اور کینیڈین وزیر خارجہ کی ملاقات کے تسلسل میں ملکی معاشی استحکام کے لیے خواتین کے کردار پر بھی بات ہوئی۔ ملاقات میں شواہد پر مبنی پالیسی سازی کے فروغ کے لیے پاکستان کے جینڈر ڈیٹا سسٹم کو مزید مضبوط بنانے، بین الاقوامی ذمہ داریوں خصوصاً CEDAW اور بیجنگ ڈیکلریشن اینڈ پلیٹ فارم فار ایکشن کے تحت رپورٹنگ کو مؤثر بنانے، نیز خواتین کے معاشی بااختیار بنانے، ڈیجیٹل شمولیت اور ذمہ دارانہ مصنوعی ذہانت (Responsible AI) کے فروغ پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس ضمن میں خواتین اور بچیوں کے خلاف ٹیکنالوجی کے ذریعے ہونے والے تشدد سے نمٹنے کے لیے مشترکہ تعاون کے امکانات کا بھی جائزہ لیا گیا۔
پاکستان کا عالمی سطح پر قائدانہ کردار
ملاقات کے دوران جناب محمد نصیری نے UN Women کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی جانب سے وفاقی وزیر کو تعریفی خط پیش کیا، جس میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے نویں او آئی سی وزارتی کانفرنس برائے خواتین کے کامیاب انعقاد، آئندہ دو برس کے لیے کانفرنس کی چیئرمین شپ سنبھالنے، اور خواتین کے بااختیار بنانے اور صنفی مساوات کے فروغ میں پاکستان کے قائدانہ کردار کو سراہا گیا۔ انہوں نے وزارتِ انسانی حقوق کے ساتھ تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے UN Women کے عزم کا بھی اظہار کیا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے خواتین اور بچیوں کے حقوق کے تحفظ، صنفی مساوات کے فروغ اور جامع و پائیدار ترقی کے لیے UN Women کے ساتھ اشتراک کو مزید مضبوط بنانے کے حکومتی عزم کا اظہار کیا۔ ملاقات کے اختتام پر دونوں فریقوں نے خواتین کے بااختیار بنانے اور پاکستان میں صنفی مساوات کے فروغ کے لیے باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔
