پاکستان میں سولر بیٹریوں کا استعمال، درآمدات میں 220 فیصد اضافہ
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ پاکستان میں شمسی توانائی کے شعبے میں ایک بڑی اور نمایاں تبدیلی دیکھنے میں آ رہی ہے، جہاں صارفین بڑی تعداد میں سولر سسٹمز کے ساتھ بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز (BESS) بھی نصب کر رہے ہیں۔ بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، غیر یقینی بجلی کی فراہمی اور نیٹ میٹرنگ پالیسی میں متوقع تبدیلیوں کے باعث صارفین اب اپنی اضافی سولر توانائی کو محفوظ رکھنے کے لیے بیٹریوں کا رخ کر رہے ہیں، جس سے ملک میں توانائی کے شعبے کی نئی جہتیں متعارف ہو رہی ہیں۔
بیٹری اسٹوریج سسٹم کی مانگ میں غیر معمولی اضافہ
رینیوایبلز فرسٹ (Renewables First) کی تازہ ترین رپورٹ ‘From Solar Panels to Storage: Pakistan’s Battery Boom Begins’ کے مطابق، 2025 کے اختتام تک پاکستان میں لیتھیم آئن بیٹریوں کی درآمدات 7.6 گیگا واٹ آور (GWh) تک پہنچ گئیں، جو ایک سال قبل کے مقابلے میں 220 فیصد زائد ہیں۔ رپورٹ سے یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ ملک میں درآمد ہونے والی مجموعی بیٹریوں کا تقریباً 60 فیصد حصہ صرف سال 2025 کے دوران درآمد کیا گیا، جو اس شعبے میں تیزی سے بڑھتے ہوئے رجحان کی واضح نشاندہی کرتا ہے۔ اس ضمن میں پاکستان کی آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچنے کی طرح یہ شعبہ بھی ملکی معیشت کے لیے ایک اہم پیشرفت ثابت ہو سکتا ہے۔
توانائی کے خود مختار نظام کی جانب پیش رفت
رپورٹ کے مطابق بیٹری اسٹوریج سسٹمز کی بدولت صارفین دن کے وقت سولر پینلز سے پیدا ہونے والی اضافی بجلی کو محفوظ کر کے رات کے اوقات یا بجلی کی بندش کے دوران استعمال کرنے کے قابل ہو گئے ہیں۔ اس رجحان سے قومی بجلی کے گرڈ پر صارفین کا انحصار کم ہونے کے ساتھ ساتھ توانائی کے بہتر اور مؤثر استعمال میں بھی کافی مدد مل رہی ہے۔ یہ جدید ٹیکنالوجی نہ صرف گھریلو بلکہ صنعتی سطح پر بھی توانائی کی قلت پر قابو پانے کا ایک بڑا ذریعہ بن سکتی ہے، جیسے کہ امریکہ میں انٹرنیٹ کی رفتار کا نیا عالمی ریکارڈ، 74 فیصد اضافہ جیسی تکنیکی ترقی سے دنیا مستفید ہو رہی ہے۔
ماہرین کی آراء اور پالیسی سازی
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سولر بیٹریوں کا استعمال اسی رفتار سے بڑھتا رہا تو پاکستان درآمدی ایندھن پر انحصار میں نمایاں کمی لا سکتا ہے، جس سے توانائی کا نظام مزید مستحکم ہوگا اور ملکی توانائی کی سلامتی بھی بہتر ہو سکتی ہے۔ ماہرین نے اس مقصد کے لیے بجلی کے گرڈ کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور توانائی سے متعلق پالیسیوں میں بروقت اصلاحات کو ناگزیر قرار دیا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ توانائی کے اس خود کفیل ماڈل کو فروغ دے، جس طرح وفاقی وزارتِ تعلیم اور نیسلے پاکستان کے مابین صحت مند شراکت داری جیسے اقدامات عوامی فلاح کے لیے کیے جاتے ہیں۔
