برطانیہ میں پرامن احتجاج کے نام پر نفرت انگیزی کی اجازت نہیں
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ برطانیہ کی حکومت نے واضح کیا ہے کہ پرامن احتجاج اور آزادیٔ اظہارِ رائے برطانوی جمہوری نظام کے بنیادی اصول ہیں، تاہم ان آئینی و قانونی حقوق کو کسی بھی صورت نفرت انگیزی، تشدد پر اکسانے، ہراسانی، دھمکی آمیز رویے یا دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ برطانوی حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والے افراد یا گروہوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی تاکہ معاشرے میں امن، رواداری اور قانون کی حکمرانی برقرار رہے۔ یہ اہم یقین دہانی برطانوی ہوم آفس کے پولیس پاورز یونٹ کی جانب سے پاکستان کے سینیئر صحافی وقار ملک کے ارسال کردہ خط کے باضابطہ جواب میں کرائی گئی۔ وقار ملک نے برطانوی وزیراعظم اور وزیر داخلہ کو ایک تفصیلی مراسلہ ارسال کیا تھا، جس میں انہوں نے برطانیہ کے مختلف شہروں، خصوصاً برمنگھم، مانچسٹر، شیفیلڈ اور بریڈفورڈ میں پاکستان اور آزاد کشمیر کے حوالے سے منعقد ہونے والے بعض مظاہروں پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ کچھ عناصر احتجاج کی آڑ میں پاکستان مخالف بیانیہ پھیلا رہے ہیں اور اشتعال انگیز سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ وقار ملک نے اپنے خط میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ چند شرپسند عناصر برطانوی سرزمین کو پاکستان کے خلاف منظم پروپیگنڈے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ایسے مظاہروں میں بعض مواقع پر پاکستان کے ریاستی اداروں کے خلاف اشتعال انگیز، دھمکی آمیز اور نفرت پر مبنی تقاریر اور نعرے بازی دیکھنے میں آئی، جس سے نہ صرف برطانیہ میں مقیم پاکستانی اور کشمیری برادریوں کے درمیان کشیدگی پیدا ہونے کا خدشہ ہے بلکہ آزاد کشمیر میں سردار تنویر الیاس کے انتخابی قافلے پر فائرنگ جیسے واقعات کے تناظر میں مختلف کمیونٹیز کے درمیان برسوں سے قائم ہم آہنگی اور سماجی یکجہتی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ انہوں نے برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ ایسے عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے تاکہ برطانیہ کی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف نفرت انگیز مہم یا تشدد پر اکسانے کے لیے استعمال نہ ہو۔ برطانوی ہوم آفس نے اپنے تحریری جواب میں واضح کیا کہ آزادیٔ اظہارِ رائے اور پرامن احتجاج کے حقوق مکمل طور پر لامحدود نہیں بلکہ ان کی واضح قانونی حدود موجود ہیں۔ مراسلے کے مطابق ہر شخص کو اپنی رائے کے اظہار اور پرامن احتجاج کا حق حاصل ہے، لیکن یہ حق اس وقت ختم ہو جاتا ہے جب کوئی فرد یا گروہ تشدد، نفرت، عوام کو ہراساں کرنے، خوف و ہراس پھیلانے یا مجرمانہ سرگرمیوں کی ترغیب دینے کی کوشش کرے۔ ہوم آفس نے اس بات پر زور دیا کہ آزادیٔ اظہار کو کسی بھی صورت نفرت انگیز جرائم یا غیر قانونی اقدامات کے لیے بطور ڈھال استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ جوابی مراسلے میں مزید کہا گیا کہ برطانوی پولیس کو امن و امان برقرار رکھنے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے وسیع قانونی اختیارات حاصل ہیں۔ اگر کسی احتجاج یا اجتماع سے عوام کو ہراساں کیے جانے، سکیورٹی خطرات پیدا ہونے، تشدد کے امکانات بڑھنے یا نفرت انگیزی کے فروغ کا خدشہ ہو تو پولیس قانون کے مطابق اس پر شرائط عائد کر سکتی ہے یا ضروری کارروائی عمل میں لا سکتی ہے۔ حکام نے واضح کیا کہ دھمکی آمیز رویے، نفرت انگیزی، تشدد پر اکسانے اور عوامی امن میں خلل ڈالنے جیسے جرائم پر برطانوی قانون پوری سختی سے نافذ کیا جاتا ہے اور مستقبل میں بھی اس حوالے سے کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔ برطانوی ہوم آفس نے اپنے جواب میں اس بات کا بھی ذکر کیا کہ حکومت آزادیٔ اظہار، پرامن احتجاج اور عوامی تحفظ کے درمیان متوازن قانونی نظام برقرار رکھنے کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے۔ اسی مقصد کے تحت احتجاج اور نفرت انگیز جرائم سے متعلق قوانین کا جامع جائزہ لینے کے لیے لارڈ میکڈونلڈ کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی جائزہ کمیٹی قائم کی گئی تھی۔ کمیٹی نے موجودہ قوانین، پولیس کے اختیارات اور آزادیٔ اظہار کے قانونی دائرۂ کار کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد اپنی سفارشات حکومت کو پیش کر دی ہیں۔ ہوم آفس کے مطابق لارڈ میکڈونلڈ کی رپورٹ حکومت کو موصول ہو چکی ہے اور اس کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ رپورٹ کی روشنی میں آئندہ پالیسی فیصلوں اور ممکنہ قانونی اصلاحات پر غور کیا جائے گا، جبکہ اس کی باضابطہ اشاعت اور حکومت کا حتمی ردعمل بھی جلد سامنے آنے کی توقع ہے۔ برطانوی حکومت نے اپنے جواب میں ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا کہ برطانیہ میں قانون کی حکمرانی، شہری آزادیوں کے تحفظ اور عوامی امن کے قیام کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور کسی بھی فرد یا گروہ کو احتجاج کے نام پر نفرت، تشدد یا خوف کی فضا پیدا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
