جوڈیشل ریفارم ایکشن پلان سے زیر التواء مقدمات میں نمایاں کمی

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم بیان میں کہا ہے کہ نومبر 2024ء میں شروع کیے گئے جوڈیشل ریفارم ایکشن پلان کے نتیجے میں زیر التوا مقدمات کی تعداد میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جبکہ شخصی آزادی، خاندانی تنازعات، ٹیکس اور کرایہ داری سے متعلق قانونی معاملات کے فیصلوں کی رفتار میں بھی خاطر خواہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
اصلاحاتی منصوبہ اور کیس مینجمنٹ
سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق، یہ اصلاحاتی منصوبہ ہدفی کیس مینجمنٹ، اعداد و شمار پر مبنی نگرانی، جدید ٹیکنالوجی کے بروقت استعمال اور طویل عرصے سے زیر التوا مقدمات کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹانے کی حکمت عملی پر استوار ہے۔ ان اقدامات کے باعث عدالتِ عظمیٰ میں زیر سماعت مقدمات کی مجموعی صورتحال میں بہتری آئی ہے۔ یاد رہے کہ ملک میں انتظامی اور عدالتی بہتری کے لیے مختلف شعبوں میں اقدامات کیے جا رہے ہیں، جیسا کہ پاکستان کی سعودی عرب سے 6.7 ارب ڈالر رعایتی آئل فنانسنگ کی درخواست جیسے معاشی فیصلوں سے ملک میں استحکام کی فضا پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
فوجداری مقدمات میں پیش رفت
پریس ریلیز کے مطابق شخصی آزادی سے متعلق فوجداری مقدمات میں سب سے زیادہ پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے۔ سزائے موت کے خلاف اپیلوں میں 608 مقدمات نمٹانے کے بعد سماعت کا سلسلہ 2015ء کے پرانے مقدمات سے آگے بڑھ کر 2026ء تک پہنچ چکا ہے، جبکہ اب اس زمرے کے صرف 22 مقدمات زیر التواء ہیں۔ اسی طرح قبل از گرفتاری ضمانت کی 2,156 درخواستیں نمٹائے جانے کے بعد عدالت 2020ء کے مقدمات سے آگے بڑھ کر 2026ء کے مقدمات کی سماعت کر رہی ہے۔ بعد از گرفتاری ضمانت کی 2,303 درخواستوں پر فیصلوں کے بعد عدالت 2009ء کے مقدمات سے نکل کر 2026ء تک پہنچ چکی ہے اور اس نوعیت کے صرف 66 مقدمات التواء کا شکار ہیں۔
خاندانی اور ٹیکس تنازعات
خاندانی نوعیت کے مقدمات میں بھی عدالت نے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ عدالت نے 1,065 خاندانی مقدمات کا فیصلہ سنایا، جس کے بعد اب 2026ء میں دائر ہونے والے مقدمات کی سماعت کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ مزید برآں، ٹیکس مقدمات میں موثر کیس مینجمنٹ کے ذریعے 506 مقدمات نمٹائے گئے، جس کے بعد عدالت 2011ء کے مقدمات سے آگے بڑھ کر 2019ء میں دائر مقدمات کی سماعت کر رہی ہے۔ اس پیش رفت سے جہاں زیر التواء مقدمات میں کمی آئی ہے، وہیں کاروباری اور تجارتی حلقوں میں قانونی یقین دہانی کا احساس پیدا ہوا ہے۔ عدالتی امور میں شفافیت لانا وقت کی اہم ضرورت ہے، جس طرح پی آئی اے کی 14.2 ارب روپے مالیت کی جائیدادیں منتقل کرنے جیسے اقدامات اداروں کی تنظیم نو میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔
کرایہ داری اور مستقبل کا لائحہ عمل
سپریم کورٹ نے کرایہ داری کے مقدمات میں بھی بڑی پیش رفت رپورٹ کرتے ہوئے بتایا کہ عدالت 2011ء کے مقدمات سے آگے بڑھ کر اب 2026ء میں دائر کردہ مقدمات کی سماعت کر رہی ہے، جبکہ اس نوعیت کے صرف 46 مقدمات زیر التواء باقی ہیں۔ اس حوالے سے وفاقی وزیر عبدالعلیم خان کا موٹروے ایم 5 کا خصوصی دورہ اور دیگر انتظامی امور کی نگرانی بھی ملکی انفراسٹرکچر اور حکومتی رٹ کو مضبوط کرتی ہے۔ سپریم کورٹ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ جوڈیشل ریفارم ایکشن پلان پر عمل درآمد بدستور جاری رہے گا تاکہ زندگی، شخصی آزادی، خاندانی حقوق اور تجارتی معاملات سے متعلق مقدمات کو مستقل بنیادوں پر ترجیحی حیثیت دی جا سکے۔
