اسلام آباد سیکٹر ایچ 13 میں پانی کا بحران سنگین صورتحال
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی، رانا شاہد امین)۔ وفاقی دارالحکومت کے سیکٹر ایچ 13 میں پانی کی شدید قلت کے باعث رہائشی روزمرہ کے استعمال کے لیے بھی پانی کی بوند بوند کو ترسنے لگے ہیں۔ صورتحال اس قدر گھمبیر ہو چکی ہے کہ مکینوں نے اسے کربلا کا سا منظر قرار دیا ہے۔ ٹینکر مافیا اور انتظامیہ کی مبینہ ملی بھگت سے عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا جا رہا ہے اور 2200 روپے میں ملنے والا پانی کا ٹینکر اب 6 سے 7 ہزار روپے میں فروخت کیا جا رہا ہے۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ منہ مانگی قیمت ادا کرنے کے باوجود ٹینکر مافیا شہریوں کو تین سے چار دن تک انتظار کروا کر ٹینکر فراہم کرتا ہے تاکہ پانی کی مصنوعی قلت کو حقیقت کا رنگ دے کر ناجائز منافع کمایا جا سکے۔ اس حوالے سے حکومت میڈیا ورکرز کے تحفظ اور شفاف ایڈورٹائزمنٹ پالیسی کیلئے پرعزم ہے، وفاقی وزیر اطلاعات کے بیانات اپنی جگہ، لیکن زمینی حقائق یہ ہیں کہ یہاں چند ٹیوب ویل مالکان نے بڑے بڑے بور کر کے پورے علاقے کے پانی پر قبضہ جما رکھا ہے اور ٹینکر مافیا کے ساتھ مل کر شہریوں کو بنیادی حقوق سے محروم کر رہے ہیں۔
انتظامیہ سے فوری کارروائی کا مطالبہ
اہلِ علاقہ کا کہنا ہے کہ اس صورتحال پر کوئی پرسانِ حال نہیں ہے، جس سے عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ حالیہ صورتحال کے پیش نظر اسلام آباد میں کرکٹ سٹیڈیم کی تعمیر: خالد چوہدری کا سخت موقف کے ساتھ ساتھ شہریوں نے وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف، وزیر داخلہ محسن نقوی اور چیف کمشنر اسلام آباد سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی ناک کے نیچے ہونے والی اس شدید زیادتی کا فوری نوٹس لیں۔
متاثرین کا مزید کہنا ہے کہ ٹینکر مافیا کی شکل میں موجود ان کالی بھیڑوں کو بے نقاب کر کے ان کے منطقی انجام تک پہنچایا جائے تاکہ ہزاروں نفوس پر مشتمل یہ آبادی اس اذیت سے نجات پا سکے۔ یاد رہے کہ پی ٹی اے سروے: کوئی موبائل کمپنی سروس معیار پر پورا نہ اتری جیسے مسائل کے علاوہ، وفاقی دارالحکومت کے سیکٹرز میں پانی کی فراہمی جیسے بنیادی مسائل حل کرنا انتظامیہ کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
