افغانستان میں غذائی بحران: 37 لاکھ بچوں کی زندگی خطرے میں

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ افغانستان میں جاری معاشی بحران، صحت کی ناکافی سہولیات اور غذائی عدم تحفظ نے لاکھوں بچوں کی زندگیاں خطرے میں ڈال دی ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسیف) کی تازہ رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں تقریباً 37 لاکھ بچے غذائی قلت اور غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں، جبکہ فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔
غذائی قلت اور بچوں کی صحت پر تباہ کن اثرات
یونیسیف کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان کے مختلف علاقوں میں خوراک کی کمی، غربت، صحت کی ناکافی سہولیات، صاف پانی کی عدم دستیابی اور معاشی بدحالی بچوں کی صحت پر تباہ کن اثرات مرتب کر رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق تقریباً 90 فیصد افغان بچے روزمرہ خوراک میں وہ بنیادی غذائی اجزاء حاصل نہیں کر پا رہے جو ان کی جسمانی اور ذہنی نشوونما کے لیے ضروری ہیں۔ جیسے کہ ماہرین اکثر بنگلہ دیش میں ریت پر کدو کی کامیاب کاشت سے زرعی انقلاب جیسی مثالوں سے زرعی خود انحصاری کی اہمیت پر زور دیتے ہیں، افغانستان کے لیے ایسی ہی مربوط کوششوں کی ضرورت ہے۔
دو سال سے کم عمر بچوں کو درپیش خطرات
رپورٹ کے مطابق دو سال سے کم عمر بچے سب سے زیادہ خطرے سے دوچار ہیں۔ غذائی قلت کے شکار بچوں میں 85 فیصد ایسے ہیں جن کی عمر دو برس سے بھی کم ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ زندگی کے ابتدائی دو سال بچے کی جسمانی اور ذہنی نشوونما کے لیے انتہائی اہم ہوتے ہیں، اور اس دوران غذائی کمی مستقبل میں ناقابل تلافی نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔ یہ صورتحال اتنی تشویشناک ہے کہ جیسے والدین اپنے بچوں کی حفاظت کے لیے سوتے وقت کی دعائیں کا اہتمام کرتے ہیں، اب انہیں بچوں کی بقا کے لیے عالمی امداد کی بھی اشد ضرورت ہے۔
صنفی امتیاز اور صحت کے مسائل
یونیسیف نے اپنی رپورٹ میں اس امر پر بھی تشویش ظاہر کی ہے کہ غذائی بحران کے باعث افغان بچیوں میں جسمانی کمزوری اور لاغر پن کی شرح لڑکوں کے مقابلے میں زیادہ دیکھی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر بروقت غذائی امداد، طبی سہولیات اور حفاظتی اقدامات نہ کیے گئے تو بچوں میں اموات، بیماریوں اور مستقل جسمانی معذوری کے خطرات کئی گنا بڑھ سکتے ہیں۔
معاشی بدحالی اور انسانی بحران
افغانستان کو اس وقت شدید معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔ بے روزگاری، مہنگائی، بینکاری نظام کی مشکلات، خشک سالی اور بین الاقوامی امداد میں کمی نے لاکھوں خاندانوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ دیہی علاقوں میں صورتحال نسبتاً زیادہ خراب بتائی جا رہی ہے، جہاں بنیادی طبی مراکز اور غذائی سہولیات بھی محدود ہیں۔
عالمی برادری سے فوری امداد کی اپیل
بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ افغانستان کو درپیش انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے صرف ہنگامی امداد کافی نہیں بلکہ ایک جامع معاشی حکمت عملی، صحت کے نظام کی بحالی، تعلیم، روزگار اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری بھی ناگزیر ہے۔ یونیسیف نے عالمی برادری، امدادی اداروں اور متعلقہ فریقین سے اپیل کی ہے کہ افغانستان میں غذائی قلت کا شکار بچوں، حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی ماؤں کے لیے فوری امداد فراہم کی جائے۔ ادارے نے خبردار کیا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے مہینوں میں غذائی بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان کا مستقبل اس کے بچوں سے وابستہ ہے۔ اگر آج ان کی صحت، تعلیم اور بنیادی ضروریات کو نظر انداز کیا گیا تو اس کے اثرات آنے والی کئی نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ اس لیے ضروری ہے کہ انسانی جانوں کو سیاسی اختلافات سے بالاتر رکھتے ہوئے ایسے اقدامات کیے جائیں جو افغان عوام، خصوصاً بچوں، کو بہتر اور محفوظ مستقبل فراہم کر سکیں، جیسا کہ آج کل دنیا بھر میں یورپ میں بغیر گیس کے چلنے والے ایئر کنڈیشنر کی آزمائش جیسی ٹیکنالوجی کو فروغ دیا جا رہا ہے، اسی طرح افغانستان میں بھی جدید تکنیکی مدد کی ضرورت ہے۔
