مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
ہفتہ، 3 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.82 EUR/PKR 311.47 GBP/PKR 366.01 سونا/تولہ 429,945 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,696 USD/PKR 276.82 EUR/PKR 311.47 GBP/PKR 366.01 سونا/تولہ 429,945 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,696
عالمی

آبنائے ہرمز میں کشیدگی سے عالمی توانائی کی ترسیل شدید متاثر

📅 منگل، 14 جولائی 2026 ✍️ Dost news ⏱ 4 منٹ
تصویر
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیوں اور امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تناؤ نے نہ صرف علاقائی امن بلکہ عالمی توانائی کی ترسیل اور بین الاقوامی تجارت کے مستقبل کے حوالے سے بھی خدشات پیدا کر دیے ہیں۔

آبنائے ہرمز کی عالمی معیشت میں اہمیت

دفاعی اور معاشی امور کے ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے روزانہ عالمی سطح پر استعمال ہونے والے خام تیل اور قدرتی گیس کا بڑا حصہ سمندری راستے کے ذریعے مختلف ممالک تک پہنچایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس علاقے میں پیدا ہونے والی ہر نئی کشیدگی عالمی منڈیوں، تیل کی قیمتوں اور تجارتی سرگرمیوں پر براہِ راست اثر انداز ہوتی ہے۔ جیسے کہ سعودی عرب کے بڑے ہوائی اڈوں پر 154 پروازیں منسوخ اور متاثر ہوئیں، اسی طرح سمندری راستوں کی بندش بھی عالمی سطح پر ہنگامی صورتحال پیدا کر سکتی ہے۔

امریکی اور ایرانی کشیدگی کے مضمرات

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ ہفتوں میں خطے میں امریکی بحری موجودگی میں اضافے، فوجی نگرانی اور دفاعی اقدامات کے باعث آبنائے ہرمز کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ دوسری جانب ایران بھی اس آبی گزرگاہ کو اپنی قومی سلامتی اور خطے میں اسٹریٹجک توازن کا اہم حصہ قرار دیتا ہے، جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان تناؤ میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اس تناظر میں وزیراعظم شہباز شریف کا قطر کا دورہ، امیرِ قطر سے تعزیت جیسے سفارتی رابطے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے انتہائی اہم سمجھے جا رہے ہیں۔

توانائی کی سپلائی اور عالمی منڈی پر اثرات

ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز خلیج فارس کو بحیرہ عمان اور بحر ہند سے ملانے والا ایک اہم سمندری راستہ ہے، جہاں سے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت، عراق، قطر اور ایران سمیت متعدد ممالک کی توانائی کی برآمدات گزرتی ہیں۔ اگر کسی بھی وجہ سے اس راستے میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں خام تیل اور گیس کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے اثرات دنیا بھر کی معیشتوں پر مرتب ہوں گے۔ اس صورتحال میں پاکستان جیسے ممالک بھی متاثر ہو سکتے ہیں جو ماضی میں وزیر داخلہ محسن نقوی کا بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرنے کے عمل سے گزر رہے ہیں تاکہ داخلی استحکام برقرار رہے۔

معاشی ماہرین کی تشویش

معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ توانائی کی سپلائی متاثر ہونے کی صورت میں ترقی پذیر ممالک کو سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، کیونکہ درآمدی ایندھن مہنگا ہونے سے مہنگائی، صنعتی لاگت اور نقل و حمل کے اخراجات میں اضافہ متوقع ہوتا ہے۔

امن اور سفارت کاری کی ضرورت

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں تمام فریقوں کے لیے تحمل اور سفارتی ذرائع اختیار کرنا ناگزیر ہے، کیونکہ کسی بھی بڑی فوجی کارروائی سے صرف خطہ ہی نہیں بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی منڈیاں اور بین الاقوامی معیشت بھی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ بین الاقوامی مبصرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں امن اور استحکام نہ صرف خطے کے ممالک بلکہ پوری دنیا کے معاشی مفادات کے لیے ضروری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم کرنے اور سمندری راستوں کو محفوظ رکھنے کے لیے سفارتی کوششوں میں تیزی لانے کی ضرورت ہے تاکہ عالمی تجارت اور توانائی کی فراہمی کا سلسلہ بلا تعطل جاری رہ سکے۔

ٹیگز: #ایران امریکہ کشیدگی #عالمی معیشت #مشرقِ وسطیٰ
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں