برج اسٹون کی 18 سالہ تحقیق کامیاب، ہوا کے بغیر ٹائر متعارف

ٹویو (نمائندہ خصوصی)۔ جاپان کی معروف ٹائر ساز کمپنی برج اسٹون (Bridgestone) نے تقریباً 18 سال کی مسلسل تحقیق، آزمائش اور ترقیاتی کام کے بعد اپنی انقلابی ایئر فری (AirFree) ٹیکنالوجی کے حامل ہوا کے بغیر چلنے والے ٹائروں کو پہلی بار باقاعدہ عوامی سروس کا حصہ بنا دیا ہے۔ ابتدائی مرحلے میں یہ ٹائر جاپان کے شہر ہیگاشی اومی میں کم رفتار سے چلنے والی خودکار (Autonomous) برقی گاڑیوں پر نصب کیے گئے ہیں، جو بزرگ شہریوں کو ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچانے کے لیے استعمال ہو رہی ہیں۔ یہ جدید ٹائر روایتی ٹائروں کے برعکس ہوا سے مکمل طور پر بے نیاز ہیں، اس لیے نہ ان میں ہوا بھرنے کی ضرورت پیش آتی ہے اور نہ ہی یہ پنکچر ہونے یا اچانک پھٹنے کے خطرے سے دوچار ہوتے ہیں۔ یہی خصوصیت انہیں خودکار گاڑیوں کے لیے نہایت موزوں بناتی ہے، کیونکہ ایسی گاڑیوں میں انسانی ڈرائیور موجود نہیں ہوتا اور مسلسل دیکھ بھال کی ضرورت بھی کم ہو جاتی ہے۔
ٹیکنالوجی کا پس منظر اور ساخت

برج اسٹون نے اس منصوبے پر 2008 میں کام شروع کیا تھا۔ کمپنی کے انجینئرز نے برسوں تک مختلف ڈیزائن اور مواد پر تحقیق کی، جس کے بعد موجودہ نسل کے AirFree ٹائر تیار کیے گئے۔ ان ٹائروں میں روایتی ہوا بھرے ٹیوب یا چیمبر کی جگہ مضبوط مگر لچکدار تھرمو پلاسٹک ریزن کے خصوصی اسپوک (Spokes) استعمال کیے گئے ہیں، جو گاڑی کا وزن برداشت کرتے ہوئے جھٹکوں کو بھی جذب کرتے ہیں۔ بیرونی سطح پر ربڑ کی ٹریڈ سڑک پر مضبوط گرفت فراہم کرتی ہے، جبکہ اندرونی ڈھانچہ آرام دہ سفر اور بہتر کارکردگی کو یقینی بناتا ہے۔ یاد رہے کہ دنیا بھر میں ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ پٹرول اور موٹروے ٹول ٹیکس میں اضافے سے سفر مہنگا ترین ہوتا جا رہا ہے، تاہم ایسی ٹیکنالوجیز طویل مدتی بچت کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔

مقصد اور افادیت

فی الحال یہ ٹیکنالوجی جاپان میں چھ نشستوں والی خودکار برقی شٹل گاڑیوں میں استعمال کی جا رہی ہے، جن کی زیادہ سے زیادہ رفتار 20 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔ ان گاڑیوں کا مقصد خصوصاً دیہی اور نیم پہاڑی علاقوں میں رہنے والے بزرگ افراد کو محفوظ، آسان اور سستی سفری سہولت فراہم کرنا ہے۔ کمپنی کے مطابق AirFree ٹائروں کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ ان میں ہوا بھرنے، پریشر چیک کرنے یا پنکچر کی مرمت جیسے معمول کے اخراجات تقریباً ختم ہو جاتے ہیں۔ اس سے نہ صرف آپریٹنگ لاگت کم ہوتی ہے بلکہ گاڑیوں کی دستیابی اور قابلِ اعتماد کارکردگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ برج اسٹون نے ان ٹائروں کو ماحول دوست بنانے پر بھی خصوصی توجہ دی ہے۔ ان کا اندرونی اسپوک ڈھانچہ قابلِ ری سائیکل مواد سے تیار کیا گیا ہے، جبکہ بیرونی ربڑ کو دوبارہ استعمال کے قابل بھی بنایا جا سکتا ہے، جس سے فضلہ کم ہوگا اور پائیدار صنعتی نظام کو فروغ ملے گا۔
مستقبل کے امکانات
اگرچہ یہ کامیابی ٹائر سازی کی صنعت میں ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے، تاہم کمپنی کا کہنا ہے کہ موجودہ مرحلے میں یہ ٹیکنالوجی صرف کم رفتار والی گاڑیوں کے لیے موزوں ہے۔ عام مسافر کاروں میں اس کے استعمال کے لیے مزید تحقیق درکار ہے تاکہ زیادہ رفتار، وزن، لاگت اور ایندھن کی بچت جیسے مسائل پر قابو پایا جا سکے۔ برج اسٹون مستقبل میں AirFree ٹیکنالوجی کو مزید بہتر بنا کر برقی نقل و حمل کے مختلف شعبوں میں متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ کمپنی اس ٹیکنالوجی کو چاند پر استعمال ہونے والی روور گاڑیوں کے ٹائروں کے لیے بھی زیرِ غور رکھے ہوئے ہے، جو اس کے مضبوط اور دیرپا ڈیزائن پر اعتماد کا اظہار ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں عام مسافر گاڑیوں تک پہنچ جاتی ہے تو پنکچر، ہوا کم ہونے اور ٹائروں کی دیکھ بھال سے متعلق کئی مسائل ماضی کا حصہ بن سکتے ہیں، جبکہ سڑکوں پر سفر پہلے سے زیادہ محفوظ، کم خرچ اور ماحول دوست ہو جائے گا۔
