او آئی سی خواتین کانفرنس: پاکستان کے لیے ایک بڑا اعزاز

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی خواتین کی 9ویں وزارتی کانفرنس کی میزبانی کر رہا ہے، اس دو روزہ کانفرنس میں تمام 57 رکن ممالک کے وفود مسلم دنیا بھر میں خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے شریک ہوں گے، جبکہ کانفرنس کے اختتام پر اسلام آباد اعلامیہ جاری ہوگا۔ اتوار کو صبا صادق اور وجیہہ قمر کے ہمراہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ پاکستان اس وزارتی کانفرنس کی میزبانی کرتے ہوئے مسرت محسوس کر رہا ہے، جو مصر سے اگلے دو سال کے لیے او آئی سی خواتین کی چیئرمین شپ پاکستان کے سنبھالنے پر منتج ہوگی۔ اس پریس کانفرنس میں ارکان پارلیمنٹ وجیہہ قمر اور صبا صادق بھی موجود تھیں۔
کانفرنس کے مقاصد اور اہمیت
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ افتتاحی دن تکنیکی سطح کے سیشنز ہو رہے ہیں، جبکہ اہم وزارتی سیشن پیر کے روز رکن ممالک کے وزرا اور مبصرین کی شرکت کے ساتھ منعقد ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کانفرنس کا باقاعدہ افتتاح کریں گے، اس موقع پر پاکستان او آئی سی وزارتی کانفرنس برائے خواتین کی چیئر پرسن شپ سنبھالے گا، اس کے لیے ہماری خواتین اور پاکستان تیار ہیں اور ہم اس ذمہ داری سے احسن طریقے سے عہدہ برا ہونے کی کوشش کریں گے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ اس سال کی کانفرنس کا مقصد معاشرے میں خواتین کے کردار کو مضبوط بنانا، عملی پیش رفت پر کام کی تجاویز تیار کرنا اور او آئی سی رکن ممالک میں ان کی ترقی کو فروغ دینے کے لیے عملی اقدامات کی نشاندہی کرنا ہے۔
خواتین کے حقوق اور مستقبل کا روڈ میپ
خواتین کی سماجی، معاشی اور سیاسی استحکام، چیلنجز اور ان کا حل کے موضوع پر منعقد ہونے والی اس کانفرنس میں خواتین کے سامنے درپیش اہم چیلنجز پر غور کیا جائے گا، رکن ممالک اس پر اپنی پیش رفت سے آگاہ کریں گے اور ان کی زندگی کے تمام شعبوں میں شرکت کو مضبوط کرنے کے لیے مستقبل کا روڈ میپ تیار کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ رکن ممالک اپنے اپنے نقطہ نظر پیش کریں گے، کانفرنس کا اختتام ‘اسلام آباد اعلامیہ’ کی منظوری کے ساتھ ہوگا، جو او آئی سی رکن ممالک کی خواتین کے حقوق اور مواقع کو آگے بڑھانے کے لیے اجتماعی عزم کی عکاسی کرے گا۔ جیسا کہ سعودی سفیر نواف المالکی کی نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار سے ملاقات میں بھی دو طرفہ امور پر بات چیت ہوئی، اسی طرح یہ کانفرنس پاکستان کو اپنا بیانیہ پیش کرنے کا موقع فراہم کرے گی۔
قومی اعزاز اور عالمی سطح پر پاکستان کا کردار
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ پاکستان اس فورم کا استعمال کرتے ہوئے صنفی مساوات کو فروغ دینے اور ایک جامع معاشرے کی تعمیر کے لیے اپنے اقدامات دنیا کے سامنے پیش کرے گا۔ وفاقی کابینہ کے متعدد ارکان کانفرنس میں شرکت کریں گے، جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور وزیر اطلاعات و ٹیلی کمیونیکیشن شیزا فاطمہ خواجہ بھی اس کانفرنس سے خطاب کریں گی۔ وفاقی وزیر نے سینئر پارلیمنٹیرین وجیہہ قمر اور صبا صادق کا اس پروگرام کی کامیاب انعقاد کے انتظامات میں ان کے تعاون پر شکریہ ادا کیا۔ نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کی سربراہی میں دفتر خارجہ نے مہمانوں کی میزبانی کا فریضہ سنبھالا ہوا ہے جبکہ وفاقی وزارت اطلاعات ونشریات بھی پیش پیش ہے۔ یہ پاکستان کے لیے ایک بڑا اعزاز ہے، اس کانفرنس میں پاکستان میں خواتین کے لیے ایک جامع معاشرے کی تشکیل کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات سے بھی آگاہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی بین الاقوامی کانفرنس کی میزبانی قومی فخر کی بات ہے اور ہم اللہ کے شکر گزار ہیں کہ پہلی بار یہ میزبانی پاکستان کے حصے میں آئی ہے۔ ہم کوشش کریں گے کہ اس ذمہ داری کو احسن طریقے سے نبھائیں، کانفرنس کی کوریج کرنے والے مقامی اور بین الاقوامی میڈیا کے لیے جامع انتظامات کیے گئے ہیں۔
