اسلام آباد کی غیر قانونی ہاؤسنگ اسکیموں کو ریگولرائز کرنے کا فیصلہ
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی دارالحکومت کے مضافاتی علاقوں میں قائم غیر قانونی قرار دی گئی ہاؤسنگ اسکیموں کو باقاعدہ قانونی حیثیت دینے کے لیے اقدامات تیز کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے، جبکہ چیئرمین سی ڈی اے نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ریگولرائزیشن کا عمل جلد شروع کر دیا جائے گا۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں رکن قومی اسمبلی راجہ خرم نواز کی زیر صدارت وزارت داخلہ و انسداد منشیات کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں ہاؤسنگ اسکیموں کی قانونی حیثیت کا معاملہ زیر غور آیا۔ اجلاس میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، عقیل ملک، چیئرمین سی ڈی اے سہیل اشرف اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان نواز میمن سمیت متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ جس طرح ملک میں آبادی کے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں، اسی طرح ہاؤسنگ کے مسائل کو حل کرنا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
ریگولرائزیشن کے لیے کنسلٹنٹ کی خدمات حاصل
چیئرمین سی ڈی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ غیر قانونی قرار دی گئی اسکیموں کو ریگولرائز کرنے کے لیے کنسلٹنٹ کی خدمات حاصل کی جا رہی ہیں اور مطلوبہ کارروائی مکمل ہوتے ہی انہیں قانونی دائرے میں لانے کا باقاعدہ عمل شروع کر دیا جائے گا۔ راجہ خرم نواز نے کہا کہ ان آبادیوں اور ہاؤسنگ اسکیموں کو قانونی شکل دینا ہی مسئلے کا پائیدار حل ہے، کیونکہ ہزاروں شہری وہاں رہائش اختیار کر چکے ہیں اور انہیں بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانا ضروری ہے۔ یاد رہے کہ ماضی میں بھی حکومتی سطح پر وزیراعظم کا امن کے تحفظ کیلئے تحمل اور سفارت کاری پر زور دیا گیا ہے تاکہ عوامی مسائل کو باہمی مشاورت سے حل کیا جا سکے۔
کھنہ کاک اور شکریال میں رجسٹری پر پابندی کا خاتمہ
اجلاس میں کھنہ کاک، کھنہ ڈاک اور شکریال سمیت بعض علاقوں میں جائیدادوں کی رجسٹری پر عائد پابندی کا معاملہ بھی اٹھایا گیا، جس پر ضلعی انتظامیہ نے پابندی ختم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس پیش رفت کو مقامی آبادی کے لیے ایک بڑا ریلیف قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ انتظامیہ کو این ڈی ایم اے کا ملک بھر میں مون سون الرٹ جاری کرنے کے تناظر میں بھی ہاؤسنگ سوسائٹیز کے انفراسٹرکچر کا جائزہ لینا چاہیے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے۔
