بحیرہ عرب میں گرنے والے کارگو طیارے کا ملبہ برآمد، تلاش جاری

کراچی (نمائندہ خصوصی)۔ بحیرہ عرب میں حادثے کا شکار ہونے والے نجی فضائی کمپنی کے ٹو ایئرویز کا طیارہ اورماڑہ کے قریب سمندر میں گر کر تباہ ہونے کے بعد اس کی تلاش کا آپریشن تیسرے روز بھی جاری ہے، جبکہ پاکستان ائیرپورٹس اتھارٹی (PAA) نے تصدیق کی ہے کہ گہرے سمندر سے طیارے کا مزید ملبہ برآمد کر لیا گیا ہے۔ تاہم طیارے کا مرکزی حصہ (Fuselage) اور اس پر سوار پانچوں عملے کے ارکان تاحال لاپتہ ہیں۔
مشترکہ ریسکیو آپریشن
پاکستان ائیرپورٹس اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق پاک بحریہ، پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی (PMSA) اور دیگر متعلقہ ادارے مشترکہ طور پر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں مصروف ہیں۔ جہاز، ہیلی کاپٹرز اور گہرے پانیوں میں کام کرنے والی خصوصی ٹیمیں حادثے کے مقام پر مسلسل تلاش کر رہی ہیں۔ منگل کی شب پیش آنے والے اس افسوسناک حادثے کو تین دن گزر چکے ہیں، تاہم عملے کے کسی بھی رکن کا سراغ نہیں مل سکا، جس کے باعث لاپتہ پائلٹس اور انجینئرز کے اہلخانہ شدید اضطراب میں مبتلا ہیں اور کسی معجزے کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔
شارجہ سے کراچی واپسی کا سفر حادثے میں تبدیل
تحقیقاتی دستاویزات اور فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ فلائٹ ریڈار 24 کے مطابق 27 سال پرانا بوئنگ 737-400 کارگو طیارہ، رجسٹریشن نمبر AP-BOI، متحدہ عرب امارات کے شہر شارجہ سے سامان لے کر کراچی روانہ ہوا تھا۔ رپورٹس کے مطابق طیارہ شارجہ میں تقریباً دس روز تک تکنیکی مرمت کے لیے موجود رہا، جہاں امریکہ سے منگوایا گیا ایک اہم اسپیئر پارٹ نصب کیا گیا تھا، جس کے بعد پرواز کو پاکستان کے لیے روانہ کیا گیا۔ دستاویزات کے مطابق منگل کی رات 9 بج کر 18 منٹ پر پاکستانی فضائی حدود کے قریب پہنچنے پر پائلٹ نے کراچی ائیر ٹریفک کنٹرول (ATC) کو اطلاع دی کہ طیارے کا نیوی گیشن سسٹم خراب ہو گیا ہے اور رہنمائی کی درخواست کی۔ ائیر ٹریفک کنٹرول نے فوری طور پر طیارے کی رہنمائی شروع کی، تاہم صرف تین منٹ بعد رات 9 بج کر 21 منٹ پر طیارے کا رابطہ اچانک منقطع ہو گیا۔ فلائٹ ڈیٹا کے مطابق طیارہ ایک منٹ کے دوران تقریباً 5 ہزار فٹ نیچے آیا، پھر اگلے 30 سیکنڈ میں دوبارہ 6 ہزار فٹ اوپر چڑھا، جس کے بعد 36 ہزار 550 فٹ کی بلندی سے انتہائی تیز رفتاری کے ساتھ سمندر کی جانب گرنا شروع ہوا۔ ریکارڈ کے مطابق اس دوران اس کی نیچے آنے کی رفتار 22 ہزار فٹ فی منٹ سے بھی زیادہ تھی، جس کے بعد طیارہ کراچی سے تقریباً 155 ناٹیکل میل مغرب میں بحیرہ عرب میں گر گیا۔
لاپتہ عملے کے پانچ ارکان
کے ٹو ائیرویز کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والی پرواز پر پانچ پاکستانی شہری سوار تھے، جن میں: کپتان محمد رضوان ادریس (پائلٹ اِن کمانڈ)، فرسٹ آفیسر فیصل جٹوئی (کو پائلٹ)، فلائٹ انجینئر محمد حامد، فلائٹ انجینئر محمد عارف صدیقی، لوڈ ماسٹر محمد توفیق خان شامل ہیں، جن کی تلاش بدستور جاری ہے۔ فرسٹ آفیسر فیصل جٹوئی کے سسر غلام نبی بحرانی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ فیصل کا دو سالہ بیٹا ہے اور روانگی سے قبل انہوں نے اپنی اہلیہ کو فون کرکے کہا تھا کہ وہ چند گھنٹوں میں کراچی پہنچ جائیں گے، لیکن رات گئے تک رابطہ نہ ہونے پر اہلخانہ نے انٹرنیٹ پر معلومات حاصل کیں تو طیارہ حادثے کی خبر سامنے آئی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ لمحہ ہمارے لیے قیامت سے کم نہیں تھا، اب ہم صرف دعا کر رہے ہیں کہ کوئی معجزہ ہو جائے۔
بلوچستان کے ساحل پر سرچ آپریشن جاری
پاک بحریہ کے فریگیٹ پی این ایس ذوالفقار اور تربت ائیر بیس سے روانہ ہونے والے اے ٹی آر طیارے نے بدھ کے روز بلوچستان کے ساحلی علاقے اورماڑہ سے تقریباً 53 ناٹیکل میل جنوب میں طیارے کا ابتدائی ملبہ تلاش کیا تھا، جبکہ جمعہ کو مزید ملبہ برآمد ہونے کے بعد اسے تحقیقاتی ٹیم کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق حادثے کی اصل وجوہات کا تعین اس وقت تک ممکن نہیں جب تک طیارے کا بلیک باکس (فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر) برآمد نہیں ہو جاتا۔ ہوابازی کے ماہر عمران اسلم کے مطابق حادثے کی جگہ پر سمندر کی گہرائی تقریباً تین ہزار میٹر ہے، جہاں شدید اندھیرا، بلند لہریں اور خراب موسمی حالات سرچ آپریشن کو انتہائی دشوار بنا رہے ہیں۔
وزیراعظم کی ہدایات
وزیراعظم شہباز شریف نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ لاپتہ عملے کی تلاش کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں اور اہلخانہ کو سرچ آپریشن سے متعلق ہر پیش رفت سے مسلسل آگاہ رکھا جائے۔ تمام تر مشکلات کے باوجود پاک بحریہ، میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی اور دیگر ریسکیو ادارے گہرے سمندر میں سرچ آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں اور لاپتہ عملے کی بازیابی کے لیے اپنی کوششیں تیز کر دی ہیں۔
