مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
ہفتہ، 3 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 277.10 EUR/PKR 312.29 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 430,384 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,513 USD/PKR 277.10 EUR/PKR 312.29 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 430,384 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,513
عالمی

روس یوکرین جنگ میں شدت، امن مذاکرات کے امکانات معدوم، کریملن کے اشارے

📅 جمعرات، 09 جولائی 2026 ✍️ Dost news ⏱ 5 منٹ
روس یوکرین جنگ میں شدت، امن مذاکرات کے امکانات معدوم، کریملن کے اشارے
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

ماسکو/واشنگٹن (نمائندۂ خصوصی) — روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے حوالے سے کریملن کے اندرونی حلقوں سے سامنے آنے والی اطلاعات نے عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے فی الحال یوکرین کے ساتھ امن مذاکرات یا جنگ بندی کی تجاویز پر آمادگی ظاہر نہیں کی، جبکہ آئندہ مہینوں میں فوجی کارروائیوں میں مزید شدت آنے کے امکانات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

عالمی تشویش اور روس کا سخت مؤقف

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، کریملن سے وابستہ متعدد ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ ہفتوں میں یوکرین کی جانب سے روسی سرزمین پر ڈرون حملوں، بالخصوص آئل ریفائنریوں، بندرگاہوں اور دیگر اہم تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کے بعد ماسکو کا مؤقف مزید سخت ہو گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق روسی قیادت ان حملوں کو اپنی قومی سلامتی کے لیے سنگین چیلنج تصور کر رہی ہے۔

جنگ میں شدت کے امکانات

اطلاعات کے مطابق کریملن کے ایک سینئر ذریعے نے، جس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، کہا ہے کہ آنے والے مہینوں میں جنگ کے دائرہ کار اور شدت میں نمایاں اضافے کا امکان موجود ہے۔ ان کے بقول روسی قیادت کا خیال ہے کہ موجودہ حالات میں فوجی دباؤ برقرار رکھنا اس کی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے۔

امریکی صدر کے بیان اور کریملن کی ترجیحات

یہ اطلاعات ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بیان میں کہا تھا کہ ان کے خیال میں روس اور یوکرین کے درمیان امن معاہدے کے امکانات پہلے کے مقابلے میں زیادہ روشن ہیں۔ تاہم کریملن کے قریبی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ روس اس وقت اپنی فوجی اور تزویراتی ترجیحات پر قائم ہے اور فوری جنگ بندی اس کی ترجیح نہیں۔

ڈونباس اور جنگ بندی کی تجاویز

ذرائع کے مطابق روسی قیادت اب بھی مشرقی یوکرین کے علاقے ڈونباس میں اپنے اہداف کو مکمل کرنے پر زور دے رہی ہے۔ بعض اطلاعات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ روسی حکام کے ایک حلقے نے موجودہ محاذ پر جنگ بندی یا سفارتی پیش رفت کی تجویز دی تھی، تاہم اس حوالے سے کوئی اتفاق رائے سامنے نہیں آ سکا

یوکرین کے ڈرون حملے اور عالمی اثرات

ادھر یوکرین نے رواں برس روس کے اندر مختلف فوجی اور توانائی تنصیبات پر طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرون حملوں میں اضافہ کیا ہے۔ ان حملوں کے نتیجے میں روس کے بعض علاقوں میں تیل کی تنصیبات اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات بھی سامنے آ چکی ہیں۔ مبصرین کے مطابق ان حملوں نے جنگ کے دائرہ کار کو مزید وسیع کر دیا ہے۔

دفاعی ماہرین اور یورپی سلامتی

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر روس اپنی فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لاتا ہے تو اس کے اثرات نہ صرف یوکرین بلکہ پورے یورپ کی سلامتی پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ یورپی ممالک اور نیٹو پہلے ہی خطے کی سیکیورٹی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور مختلف ممکنہ منظرناموں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

تنازع کا فوری حل اور عالمی معیشت

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ حالات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ روس اور یوکرین کے درمیان جاری تنازع کا فوری حل فی الحال دکھائی نہیں دیتا۔ اگر دونوں فریقوں کے درمیان سفارتی رابطوں میں پیش رفت نہ ہوئی تو جنگ مزید طول پکڑ سکتی ہے، جس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی سلامتی پر بھی مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔

حکومتی ردعمل اور عالمی توجہ

دوسری جانب نہ تو روسی حکومت نے ان اندرونی ذرائع سے منسوب تمام دعوؤں کی باضابطہ تصدیق کی ہے اور نہ ہی یوکرینی حکام نے ان پر کوئی تفصیلی ردعمل جاری کیا ہے۔ تاہم عالمی برادری کی نظریں اس وقت ماسکو، کیف اور واشنگٹن کی آئندہ سفارتی و عسکری حکمت عملی پر مرکوز ہیں، کیونکہ انہی فیصلوں سے جنگ کے اگلے مرحلے کی سمت کا تعین ہوگا۔

ٹیگز: #امن مذاکرات #بین الاقوامی تعلقات #جنگ #روس #یوکرین
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں