نیٹو سربراہی اجلاس: ٹرمپ کا اردوان کو F-35 پروگرام میں واپسی کا بڑا تحفہ
انقرہ (نمائندۂ خصوصی) — بین الاقوامی سیاست کے مینوفیکچرنگ ہب انقرہ سے اس وقت دنیا کی سب سے بڑی سفارتی اور سیاسی خبر سامنے آ رہی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جو ان دنوں ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں منعقدہ نیٹو (NATO) سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے موجود ہیں، اپنے ترک ہم منصب رجب طیب اردوان کو ایک ایسا "تاریخی تحفہ” دینے جا رہے ہیں جو دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نئے اور انتہائی مضبوط باب کا آغاز کرے گا۔
عالمی میڈیا اور نیویارک ٹائمز کی رپورٹس کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ اس دورے کے دوران صدر اردوان کو یہ خوشخبری سنانے والے ہیں کہ امریکہ اب ترکیہ کو دنیا کے جدید ترین اسٹیلتھ لڑاکا طیاروں کے پروگرام F-35 میں دوبارہ شامل کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ اس ممکنہ فیصلے کو صدر ٹرمپ کی جانب سے طیب اردوان کے لیے اب تک کا سب سے بڑا اور جرات مندانہ سفارتی اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔
ایک دہائی کی سرد مہر کے بعد گرمجوشی کا نیا دور
اگرچہ وائٹ ہاؤس اور انقرہ کے درمیان گزشتہ چند سالوں (خاص طور پر جوبائیڈن کے دورِ حکومت) میں شدید سرد مہر رہی، لیکن گزشتہ سال جب سے ڈونلڈ ٹرمپ نے دوبارہ امریکی صدارت کا منصب سنبھالا ہے، دونوں رہنماؤں کے درمیان قربتیں غیر معمولی حد تک بڑھ چکی ہیں۔ ٹرمپ پبلک فورمز پر باقاعدگی سے اردوان کی تعریفیں کرتے نظر آتے ہیں، انہیں ایک مضبوط لیڈر مانتے ہیں اور اپنا گہرا ذاتی دوست قرار دیتے ہیں۔
واشنگٹن اور انقرہ کے سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک سال میں دونوں ممالک کے دفاعی اور تجارتی تعلقات اس سطح پر پہنچ چکے ہیں جس کی مثال حالیہ تاریخ میں نہیں ملتی۔ ٹرمپ نے نیٹو اجلاس میں شرکت سے قبل ایک بیان میں یہاں تک کہہ دیا تھا:
"میں اس بار نیٹو اجلاس میں صرف اور صرف صدر اردوان کے احترام میں جا رہا ہوں، وہ ایک شاندار اور لوہے کے اعصاب کے مالک رہنما ہیں۔”
وہ تنازعہ جس نے ترکیہ کو F-35 سے باہر کیا تھا
اس پوری کہانی کا پس منظر سمجھنا انتہائی ضروری ہے۔ سال 2019 میں ترکیہ نے روس سے جدید ترین فضائی دفاعی نظام S-400 خریدنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس فیصلے پر اوباما اور بائیڈن انتظامیہ نے شدید برہمی کا اظہار کیا تھا کیونکہ امریکی دفاعی ماہرین کا ماننا تھا کہ روسی سسٹم کی موجودگی میں امریکہ کا ففتھ جنریشن F-35 طیارہ محفوظ نہیں رہے گا اور اس کی حساس ٹیکنالوجی روس کے ہاتھ لگ سکتی ہے۔
اس کے نتیجے میں واشنگٹن نے ترکیہ پر سخت اقتصادی اور دفاعی پابندیاں (CAATSA) عائد کر دیں، اور ترکیہ کو F-35 پروگرام سے باہر نکال دیا، حالانکہ انقرہ اس طیارے کا صرف خریدار ہی نہیں بلکہ اس کے پرزے بنانے والا ایک اہم شراکت دار بھی تھا۔ ترکیہ کے جمع کروائے گئے 1.4 ارب ڈالر بھی اسی تنازعے کی نذر ہو گئے تھے۔
ٹرمپ کا "بائی پاس پلان” اور کانگریس کا ممکنہ ٹکراؤ
امریکی حکام کے مطابق، ٹرمپ اب اس قانونی گتھی کو سلجھانے کے لیے ایک منفرد اور ڈرامائی طریقہ کار اپنانے جا رہے ہیں۔ امریکی قانون کے تحت جب تک ترکیہ کی سرزمین پر روسی S-400 نظام موجود ہے، اسے F-35 طیارے یا پرزے نہیں دیے جا سکتے۔
لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایک ایسے فارمولے پر کام کر رہی ہے جس کے تحت انقرہ کو براہ راست ناراض کیے بغیر یا تو ان روسی سسٹمز کو کسی تیسرے ملک (جیسے کہ یوکرین یا کسی اور اتحادی) کو منتقل کرنے پر راضی کیا جائے گا، یا پھر دونوں رہنماؤں کے درمیان خطوط کے تبادلے (Exchange of Letters) کے ذریعے ایک درمیانی راستہ نکالا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے انقرہ روانگی سے قبل امریکی کانگریس کو ترکیہ کے اپنے مقامی طور پر تیار کردہ پانچویں نسل کے جنگی طیارے KAAN کے لیے امریکی F-110 انجن فراہم کرنے کی ڈیل پر بھی گرین سگنل دے دیا ہے، جو کئی سالوں سے کیپیٹل ہل میں التوا کا شکار تھا۔
اسرائیل کی تشویش اور خطے کی سیاست پر اثرات
ٹرمپ کے اس ممکنہ جرات مندانہ اقدام نے جہاں انقرہ کو خوش کر دیا ہے، وہیں واشنگٹن کے دیگر روایتی اتحادیوں میں کھلبلی مچا دی ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اس حوالے سے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور رپورٹس کے مطابق انہوں نے صدر ٹرمپ کو فون کر کے ترکیہ کو F-35 طیاروں کی فراہمی روکنے کی درخواست کی ہے۔ نیتن یاہو کا موقف ہے کہ صدر اردوان غزہ جنگ پر اسرائیل کے خلاف سخت موقف رکھتے ہیں، اس لیے انہیں اتنے جدید ہتھیار فراہم کرنا خطے کے توازن کو بگاڑ سکتا ہے۔
تاہم، ڈونلڈ ٹرمپ جو اپنی روایتی اور غیر روایتی سفارت کاری کے لیے مشہور ہیں، وہ اپنے ذاتی تعلقات اور "ڈیل میکنگ” کی صلاحیت پر بھروسہ کر رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ ترکیہ نیٹو کا ایک انتہائی اہم ستون ہے اور مشرقِ وسطیٰ سے لے کر روس یوکرین تنازعے تک، انقرہ کو ساتھ ملائے بغیر واشنگٹن اپنے عالمی مقاصد حاصل نہیں کر سکتا۔
دوست نیوز کی اس خصوصی رپورٹ کے مطابق، انقرہ کا یہ نیٹو اجلاس صرف ایک فوجی اتحاد کی میٹنگ نہیں، بلکہ یہ ڈونلڈ ٹرمپ اور رجب طیب اردوان کی اس نئی سیاسی جوڑی کا پاور شو بننے جا رہا ہے، جو آنے والے سالوں میں دنیا کے دفاعی نقشے کو تبدیل کر کے رکھ دے گا۔
