امریکہ اور ایران کے 300 ارب ڈالر کے خفیہ فنڈ کا انکشاف: نصف سے زائد رقم جمع

واشنگٹن/تہران (نمائندہ خصوصی)۔ عالمی سیاست اور مشرقِ وسطیٰ کے منظر نامے کو یکسر بدل دینے والی ایک انتہائی سنسنی خیز اور ہائی پروفائل خبر سامنے آئی ہے۔ خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ (Reuters) نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان جاری خفیہ مذاکرات کے پردے چاک کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے نئے اسٹریٹجک فریم ورک معاہدے (Framework Agreement) کے تحت ایک 300 ارب ڈالر کا نجی فنڈ (Private Fund) قائم کیا جا رہا ہے۔ اس فنڈ کا بنیادی مقصد ایران کی معیشت میں اربوں ڈالر کی بیرونی سرمایہ کاری کا راستہ کھولنا اور دہائیوں پرانی اقتصادی ناکہ بندی کا خاتمہ کرنا ہے۔
اس حساس ترین معاملے کی براہ راست معلومات رکھنے والے ایک انتہائی معتبر سفارتی ذریعے نے رائٹرز کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ کوئی زبانی کلامی معاہدہ یا مستقبل کا منصوبہ نہیں ہے، بلکہ اس 300 ارب ڈالر کے بھاری بھرکم فنڈ میں سے نصف سے زیادہ رقم (تقریباً 150 ارب ڈالر سے زائد) عالمی سرمایہ کاروں اور دوست ممالک کی جانب سے پہلے ہی باقاعدہ طور پر کمٹ (Committed) کی جا چکی ہے۔
پسِ پردہ سفارت کاری: دشمنی سے معاشی شراکت داری تک
برسوں سے ایک دوسرے کے جانی دشمن سمجھے جانے والے واشنگٹن اور تہران کے درمیان یہ غیر معمولی پیشرفت کسی معجزے سے کم نہیں ہے۔ سفارتی ماہرین اور عالمی محققین کے مطابق، اس فنڈ کا خاکہ دونوں ممالک کے مابین مہینوں سے جاری خفیہ مذاکرات کے بعد تیار کیا گیا ہے۔
اس فنڈ کا بنیادی فلسفہ یہ ہے کہ ایران پر عائد امریکی پابندیوں کو براہ راست یکمشت ختم کرنے کے بجائے، ایک ایسا محفوظ مالیاتی چینل یا "بفر زون” بنایا جائے جس کے ذریعے دنیا بھر کی نجی کمپنیاں، کنسورشیم اور انویسٹمنٹ بینک بغیر کسی خوف کے ایران کے مینوفیکچرنگ، انفراسٹرکچر اور خاص طور پر توانائی (تیل اور گیس) کے شعبوں میں سرمایہ کاری کر سکیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس فنڈ کو امریکی محکمہ خزانہ (US Treasury) اور یورپی یونین کے مالیاتی اداروں کی جانب سے خصوصی قانونی تحفظ حاصل ہوگا تاکہ سرمایہ کاروں کو مستقبل میں کسی بھی قسم کی پابندیوں یا سیاسی تبدیلیوں سے نقصان نہ پہنچے۔
رقم کہاں سے آ رہی ہے؟ پردے کے پیچھے کے کھلاڑی
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، پہلے مرحلے میں جو 150 ارب ڈالر سے زائد کی رقم حاصل کی گئی ہے، اس میں خلیجی ممالک (بشمول سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات)، چین، اور کئی بڑی یورپی نجی ایکویٹی فرمز (Private Equity Firms) شامل ہیں۔
سعودی عرب اور ایران کے درمیان حالیہ سالوں میں ہونے والے سفارتی تعلقات کی بحالی کا اصل محرک بھی یہی معاشی ایجنڈا تھا۔ خلیجی ممالک اب ایران کو ایک خطرے کے بجائے ایک بڑی تجارتی مارکیٹ کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ چین، جو پہلے ہی ایران کا سب سے بڑا اسٹریٹجک پارٹنر ہے، اس فنڈ کے ذریعے ایران کے بندرگاہوں اور ریلوے نیٹ ورک کو اپنے ‘بیلٹ اینڈ روڈ’ منصوبے کا مستقل حصہ بنانا چاہتا ہے۔
"یہ فنڈ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادلوں کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کا ایک معاشی نسخہ ہے۔ جب دنیا کے بڑے ممالک کا پیسہ ایران میں لگے گا، تو کوئی بھی جنگ کا خطرہ مول نہیں لے گا۔” — معاہدے سے وابستہ سینیئر سفارت کار
ایران کے لیے لائف لائن اور امریکی سیاست میں ہلچل
ایران کے لیے یہ 300 ارب ڈالر کا فنڈ کسی لائف لائن سے کم نہیں ہے۔ کئی سالوں سے سخت ترین پابندیوں، افراطِ زر اور کرنسی کی گرتی ہوئی قدر کا سامنا کرنے والے ملک کے لیے اتنی بڑی سرمایہ کاری معاشی انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔ ایران کے صدر اور اعلیٰ قیادت اس معاہدے کو اپنی بڑی سفارتی فتح قرار دے رہے ہیں۔
تاہم، واشنگٹن میں اس انکشاف نے ایک نیا سیاسی طوفان کھڑا کر دیا ہے۔ امریکی کانگریس کے سخت گیر ارکان اور اسرائیل نواز لابی نے وائٹ ہاؤس پر شدید تنقید شروع کر دی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایران کو اتنے بڑے فنڈ تک رسائی دینا خطے میں اس کے اثر و رسوخ کو مزید بڑھاوا دے گا۔ لیکن صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ ایران کو اقتصادی طور پر عالمی برادری کے ساتھ جوڑنا ہی اس کے جوہری پروگرام کو روکنے اور خطے میں پائیدار امن قائم کرنے کا واحد عملی طریقہ ہے۔
خلاصہِ کلام
رائٹرز کا یہ خصوصی انکشاف ثابت کرتا ہے کہ عالمی سیاست اب نظریات کے بجائے خالصتاً معاشی مفادات کے گرد گھوم رہی ہے۔ 300 ارب ڈالر کا یہ نجی فنڈ اگر مکمل طور پر فعال ہو جاتا ہے، تو یہ نہ صرف واشنگٹن اور تہران کے تعلقات کو ایک نئی جہت دے گا بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے پورے جیو پولیٹیکل (Geopolitical) نقشے کو ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دے گا۔ دوست نیوز اس ہائی پروفائل ڈیل کی ہر پل بدلتی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
