مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
اتوار، 4 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.83 EUR/PKR 311.48 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 429,972 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,802 USD/PKR 276.83 EUR/PKR 311.48 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 429,972 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,802
قومی

احسن اقبال کی جانب سے ریاست کو سیاست سے الگ رکھنے کی ضرورت پر زور

📅 منگل، 07 جولائی 2026 ✍️ Dost news ⏱ 6 منٹ
تصویر
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

{Source} – اورلینڈو (امریکہ)۔ 5 جولائی (اے پی پی): وفاقی وزیر منصوبہ بندی ،ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ ریاست کو سیاست سے الگ رکھنا ہوگا، سیاسی احتجاج حق ہے مگر ریاستی مفاد پر سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔قرآنِ مجید کی رو سے بھی یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں اپنے معاملات میں اعتدال اور اتحاد کو فروغ دینا چاہیے۔حماس کی حکومت تحلیل کرنے کے تناظر میں بھی یہ امر اہم ہے کہ کیسے سیاسی معاملات کو ریاستی مفاد سے ہم آہنگ رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کا کوئی جمہوری ملک سیاسی ایجنڈوں کی خاطر ریاستی اداروں کو کمزور کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ڈونلڈ ٹرمپ کی مداخلت کے بعد جیسے مسائل حل ہوئے، اسی طرح ہمیں بھی اپنے اندرونی معاملات کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔

پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ مصنوعی ذہانت (AI) سے صحت کے شعبے میں انقلاب برپا کیا جا سکتا ہے، اور ذیابیطس سے بچاو ¿ کے لیے ملک گیر آگاہی مہم شروع کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ قومی مفاد میں مشکل مگر ضروری فیصلے کر کے معیشت کو مستحکم کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں مہنگائی کا تناسب تقریباً 38 فیصد سے کم ہو کر 5 سے 6 فیصد کی سطح پر آ گیا ہے۔

اوورسیز پاکستانی ڈاکٹرز کا کردار

وفاقی وزیر نے اپنات کنونشن 2026 سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اوورسیز پاکستانی ڈاکٹرز پاکستان کے ہیلتھ سیکٹر کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی معالجین جدید طبی مہارت، ٹیکنالوجی اور اپنے تجربات پاکستان منتقل کریں۔ احسن اقبال نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے استعمال سے صحت کے شعبے میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے، اور اوورسیز ڈاکٹرز پاکستان میں AI پر مبنی ہیلتھ کیئر سلوشنز کے فروغ میں معاونت کریں۔

قومی چیلنجز اور پاپولیشن کونسل

انہوں نے صحت، خواندگی اور آبادی کے شعبوں میں پاکستان کو درپیش بڑے چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہیپاٹائٹس سی، ذیابیطس، ٹی بی، پولیو اور بچوں میں غذائی کمی جیسے مسائل قومی سطح پر اہم ہیں۔ اس سلسلے میں، وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان پاپولیشن کونسل کے قیام کی منظوری دے دی ہے، جس کی سربراہی خود وزیراعظم کریں گے اور تمام وزرائے اعلیٰ اس کے رکن ہوں گے۔

صحت کے شعبے میں اقدامات

احسن اقبال نے بتایا کہ اسلام آباد، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کا پروگرام جاری ہے۔ ذیابیطس سے بچاو ¿ کے لیے ملک گیر آگاہی مہم شروع کی جائے گی۔ انہوں نے اوورسیز پاکستانی ڈاکٹرز پر زور دیا کہ وہ علم، جدت اور اصلاحات کے ذریعے وطن کی خدمت جاری رکھیں۔

معاشی استحکام اور سی پیک

وفاقی وزیر نے تسلیم کیا کہ پالیسیوں کے تسلسل میں رکاوٹوں کے باعث پاکستان اپنے ترقیاتی اہداف مکمل حاصل نہ کر سکا۔ تاہم، انہوں نے ماضی کی اہم کامیابیوں کا ذکر کیا جن میں توانائی بحران کا خاتمہ، امن و امان میں بہتری اور سی پیک کا کامیاب آغاز شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سی پیک کے پہلے مرحلے میں تین برس میں تقریباً 25 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری آئی۔

اقتصادی بحالی اور برآمدات

انہوں نے بتایا کہ اپریل 2022 میں اتحادی حکومت نے معیشت کو دیوالیہ کے دہانے سے واپس لایا اور قومی مفاد میں مشکل مگر ضروری فیصلے کر کے معیشت کو مستحکم کیا۔ اس کے نتیجے میں مہنگائی 38 فیصد سے کم ہو کر 5 سے 6 فیصد پر آ گئی اور شرح سود میں نمایاں کمی سے پائیدار معاشی ترقی کی بنیاد رکھی گئی۔ 2022 کے سیلاب سے 30 ارب ڈالر کا نقصان ہوا مگر پاکستان نے بحالی کا سفر جاری رکھا۔ حکومت کی ‘اڑان پاکستان’ حکمت عملی کا مرکز برآمدات میں اضافہ ہے، جس کے تحت 2035 تک پاکستان کی برآمدات کو 100 ارب ڈالر سے آگے لے جانے کا قومی ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

عالمی امن اور پاکستان کا کردار

احسن اقبال نے وزیراعظم شہباز شریف کی سربراہی اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کی جانب سے بھارت کے خلاف کامیاب دفاع کا ذکر کیا۔ انہوں نے وزیر اعظم شہباز شریف کی سیاسی بصیرت اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کے نتیجے میں ایران امریکہ مذاکرات کی کامیابی کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ پاکستان کی امن کوششوں کو عالمی سطح پر غیر معمولی پذیرائی ملی۔

جمہوریت اور ریاستی مفادات

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ریاست کو سیاست سے الگ رکھنا ہوگا، سیاسی احتجاج حق ہے مگر ریاستی مفاد پر سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔ بین الاقوامی سطح پر اندرونی اختلافات کو تماشہ بنانے سے پاکستان کے وقار، عالمی برانڈ اور ریاستی مفاد کو نقصان پہنچتا ہے۔

ٹیلی میڈیسن کا انقلابی ماڈل

احسن اقبال نے تجویز دی کہ اوورسیز پاکستانی ڈاکٹرز کو ملکی ترقی اور نظامِ صحت سے جوڑنے کے لیے انقلابی ٹیلی میڈیسن ماڈل زیرِ غور ہے۔ اس کے تحت پاکستان کے 60 اضلاع میں امریکی ماہرینِ صحت پر مشتمل ٹیلی میڈیسن بیک اپ پینل قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس سے دور دراز علاقوں کے جونیئر ڈاکٹرز کو بیک اینڈ سپورٹ ملے گی اور وہ امریکی اسپیشلسٹس سے براہِ راست مشاورت کر سکیں گے۔

مزید خبروں کے لیے بی بی سی اردو وزٹ کریں۔

ٹیگز: #احسن اقبال #ریاست #سیاست #صحت #معیشت
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں