امجد حسین ایڈووکیٹ گلگت بلتستان کے نئے وزیر اعلیٰ، بلاول بھٹو کی خصوصی شرکت

گلگت (بیورو رپورٹ)۔ گلگت بلتستان کے پانچویں وزیر اعلیٰ امجد حسین ایڈووکیٹ نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے، جس کے بعد انہوں نے باقاعدہ طور پر قلمدان سنبھال لیا ہے۔ حلف برداری کی تقریب وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ چنار باغ میں منعقد ہوئی، جہاں گورنر گلگت بلتستان سید مہدی شاہ نے نومنتخب وزیر اعلیٰ امجد حسین ایڈووکیٹ سے حلف لیا۔
اس پروقار تقریب میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور پارٹی کے دیگر سینئر رہنماؤں نے خصوصی طور پر شرکت کی اور نئے وزیر اعلیٰ کو مبارکباد پیش کی۔
بلاول بھٹو کی تقریر
حلف برداری کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام نے ڈوگرہ راج کے خلاف طویل جدوجہد کے بعد آزادی حاصل کی اور پاکستان کے ساتھ الحاق کیا، تاہم وہ آج تک اپنی مکمل آئینی شناخت اور حقوق کے منتظر ہیں۔ انہوں نے ماضی میں اس خطے پر مسلط کیے گئے ایف سی آر جیسے کالے قوانین کا ذکر کیا اور بتایا کہ کس طرح قائدِ عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو نے اس ظالمانہ نظام کا خاتمہ کیا، عوام کو سبسڈی دی اور ترقی کا سفر شروع کیا۔
بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے گلگت بلتستان میں سیاسی عمل کی بنیاد رکھی، جبکہ صدر آصف علی زرداری نے اس خطے کو انتظامی شناخت اور اختیارات سے نوازا۔
آئینی حقوق اور حق حکمرانی
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کو عبوری حیثیت کے ساتھ مکمل آئینی حقوق دلانے کی حامی ہے، اور وہ دن دور نہیں جب یہاں کے منتخب نمائندے قومی اسمبلی میں پاکستان کے دیگر نمائندوں کے شانہ بشانہ بیٹھیں گے۔ بلاول بھٹو کے مطابق، گلگت بلتستان کے عوام نے پیپلز پارٹی کو تین بنیادی نکات: حق حکمرانی، حق ملکیت، اور حق روزگار پر مبنی مینڈیٹ دیا ہے۔
پیپلز پارٹی ریاست، وفاقی حکومت اور تمام سیاسی جماعتوں کو قائل کرے گی کہ گلگت بلتستان کو اس کے آئینی حقوق دیے جائیں۔ زمینوں پر عوام کے حقِ ملکیت کو یقینی بنایا جائے گا، اور اس سلسلے میں عوام کو زرعی کوآپریٹو سوسائٹیاں قائم کرنے کا مشورہ دیا گیا تاکہ سرکاری و نجی شراکت داری کے ذریعے ترقی کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچ سکیں۔
روزگار اور بلدیاتی انتخابات
چیئرمین پیپلز پارٹی نے اس بات پر زور دیا کہ نوجوانوں کو میرٹ کی بنیاد پر روزگار فراہم کرنا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے، اور وزیراعلیٰ امجد حسین ایڈووکیٹ نے انتخابی منشور کے مطابق شفاف اور میرٹ پر مبنی بھرتیوں کا اعلان کر کے اس عزم کو پورا کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام، پارٹی کارکنوں اور وزیراعظم شہباز شریف کا بھی شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اپوزیشن جماعتوں، بالخصوص مسلم لیگ (ن)، کے ساتھ مل کر عوامی مسائل کے حل کے لیے کام کرے گی۔ انہوں نے استحکام پاکستان پارٹی، مجلس وحدت المسلمین اور تحریک انصاف کی حمایت یافتہ امیدواروں کا بھی شکریہ ادا کیا اور یقین دلایا کہ وزیراعلیٰ پوری آبادی کے نمائندے ہوں گے، خواہ ان کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے ہو۔
بلاول بھٹو زرداری نے اعلان کیا کہ گلگت بلتستان میں بلدیاتی انتخابات موسم سرما سے قبل کرانے کی کوشش کی جائے گی تاکہ اختیارات نچلی سطح تک منتقل ہو سکیں۔
دفاعی اہمیت اور علاقائی تعلقات
انہوں نے گلگت بلتستان کی جغرافیائی اور دفاعی اہمیت پر زور دیتے ہوئے سرحدوں پر خدمات انجام دینے والے پاک فوج کے جوانوں کو خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے عوام اپنے محافظوں پر فخر کرتے ہیں۔
بھارت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کے عوام، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے شہری، بھارتی جارحیت اور ظلم کے خلاف متحد ہیں۔ انہوں نے حالیہ کشیدگی میں پاکستانی مسلح افواج اور قوم کی جانب سے بھارت کو دی جانے والی تاریخی شکست کو سراہا اور خبردار کیا کہ بھارت اب خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے، مگر پاکستانی قوم اس کے عزائم کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دے گی۔
انہوں نے ایران کے عوام کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ انہوں نے بیرونی دباؤ اور مداخلت کا کامیابی سے مقابلہ کیا، اور پاکستان کے عوام بھی ہر قسم کی بیرونی سازش کو ناکام بنائیں گے۔
دریائے سندھ کا تحفظ
دریائے سندھ کے پانی کے معاملے پر بلاول بھٹو زرداری نے دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ سندھ طاس معاہدے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور گلگت بلتستان سے لے کر سندھ تک پوری قوم دریائے سندھ کے تحفظ کے لیے متحد ہے۔ انہوں نے مشہور نعرہ "مرسوں مرسوں، سندھو نہ ڈیسوں” لگایا اور یقین ظاہر کیا کہ اس معاملے پر بھی پاکستان کامیاب ہوگا۔
آزاد کشمیر کے انتخابات
انہوں نے آزاد کشمیر کے انتخابات میں بھی پیپلز پارٹی کے منشور کو حقِ حکمرانی، حقِ ملکیت اور حقِ روزگار قرار دیا۔ انہوں نے آزاد کشمیر کی سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کے بجائے عوامی فیصلے کا احترام کریں اور انتخابی عمل میں بھرپور حصہ لیں۔
بلاول بھٹو زرداری نے یہ خواہش ظاہر کی کہ اگر پیپلز پارٹی آزاد کشمیر میں کامیاب ہوئی تو گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کا مشترکہ آئینی کنونشن منعقد کیا جائے گا تاکہ دونوں خطوں کے عوام کے آئینی اور سیاسی حقوق کے لیے مشترکہ حکمت عملی اختیار کی جا سکے۔ انہوں نے گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے نمائندوں کو عبوری بنیادوں پر قومی اسمبلی اور سینیٹ میں نمائندگی دینے کی بھی تجویز پیش کی۔
اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان پاکستان کی معیشت کا "کوہِ نور” ہیں، جو نہ صرف اپنے علاقوں بلکہ پورے ملک کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ آخر میں، انہوں نے پارٹی کارکنوں کے ہمراہ "پانچوں صوبوں کی زنجیر، بینظیر بینظیر” کا نعرہ لگایا۔
