مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
ہفتہ، 3 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.82 EUR/PKR 311.47 GBP/PKR 366.01 سونا/تولہ 429,945 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,645 USD/PKR 276.82 EUR/PKR 311.47 GBP/PKR 366.01 سونا/تولہ 429,945 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,645
صفحہ اول

غزہ میں حماس کی حکومت تحلیل کرنے کا اعلان، انتظامی اختیارات ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے سپرد کرنے کی تیاری

📅 پیر، 06 جولائی 2026 ✍️ Muhammad Khalid ⏱ 4 منٹ
غزہ میں حماس کی حکومت تحلیل کرنے کا اعلان، انتظامی اختیارات ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے سپرد کرنے کی تیاری
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

غزہ/قاہرہ (مانیٹرنگ ڈیسک، دوست نیوز)

فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے غزہ کی پٹی میں تقریباً دو دہائیوں سے قائم اپنی انتظامی حکومت کو تحلیل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے ایک بڑی سیاسی تبدیلی کا اشارہ دیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت غزہ کے سول انتظامی امور ایک غیر سیاسی ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے حوالے کیے جائیں گے، جو جنگ بندی معاہدے کے تحت علاقے میں سویلین نظامِ حکومت سنبھالے گی۔

حماس کے ایک سینئر عہدیدار نے بین الاقوامی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ تنظیم نے غزہ میں قائم اپنی "گورنمنٹ کمیٹی” کو تحلیل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس دوران ایک متفقہ قومی شخصیت عبوری طور پر انتظامی امور کی نگرانی کرے گی، جبکہ نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ (NCAG) مکمل طور پر ذمہ داریاں سنبھالنے کی تیاری کرے گی۔

حماس کے ترجمان حازم قاسم کے مطابق یہ فیصلہ فلسطینی عوام کے وسیع تر مفاد، غزہ کی تعمیرِ نو کے عمل کو تیز کرنے اور جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے پر پیش رفت کو ممکن بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تنظیم سول انتظامیہ کی منتقلی میں مکمل تعاون کرے گی تاکہ بین الاقوامی امداد اور تعمیرِ نو کے منصوبوں کی راہ ہموار ہو سکے۔

2007 سے جاری حماس کا اقتدار

حماس نے 2007 میں فلسطینی اتھارٹی اور فتح کے ساتھ خونریز تصادم کے بعد غزہ کا مکمل کنٹرول سنبھالا تھا۔ اس کے بعد سے غزہ کی سول حکومت، سرکاری ادارے اور انتظامی ڈھانچہ حماس کے زیرِ انتظام رہے، جبکہ مغربی کنارے میں فلسطینی اتھارٹی کی حکومت برقرار رہی۔ اس تازہ فیصلے کو گزشتہ تقریباً 20 برسوں میں غزہ کی سیاست کی سب سے بڑی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔

نئی کمیٹی کیا کرے گی؟

اطلاعات کے مطابق نئی ٹیکنوکریٹ کمیٹی میں سیاسی رہنماؤں کے بجائے ماہرینِ معیشت، انجینئرز، ڈاکٹرز، انتظامی افسران اور دیگر پیشہ ور افراد شامل ہوں گے، جن کی بنیادی ذمہ داری غزہ میں سرکاری اداروں کی بحالی، بنیادی سہولیات کی فراہمی، بین الاقوامی امداد کی نگرانی اور تعمیرِ نو کے منصوبوں پر عمل درآمد ہوگی۔

حماس نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ غزہ کے موجودہ سرکاری ملازمین اپنی ذمہ داریاں جاری رکھیں گے، تاہم وہ نئی انتظامی کمیٹی کے ماتحت کام کریں گے۔

سب سے بڑا سوال: کیا حماس غیر مسلح ہوگی؟

اگرچہ حماس سول حکومت سے دستبردار ہونے پر آمادہ ہو گئی ہے، تاہم اس کے عسکری ونگ اور ہتھیاروں کا معاملہ اب بھی جنگ بندی مذاکرات کا سب سے پیچیدہ نکتہ ہے۔

بین الاقوامی ثالثوں کی خواہش ہے کہ غزہ میں ایک نئی سویلین سیکیورٹی فورس قائم کی جائے اور بھاری ہتھیار بین الاقوامی نگرانی میں منتقل کیے جائیں، لیکن حماس کا مؤقف ہے کہ اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا سے پہلے ہتھیار ڈالنے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔

خطے کی سیاست پر ممکنہ اثرات

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ عبوری انتظام کامیابی سے نافذ ہو جاتا ہے تو غزہ میں بین الاقوامی امداد، تعمیرِ نو اور سول انتظامیہ کی بحالی کا عمل تیز ہو سکتا ہے۔ تاہم اس منصوبے کی کامیابی کا انحصار جنگ بندی کی پائیداری، اسرائیل اور فلسطینی فریقین کے درمیان ہونے والے آئندہ مذاکرات، اور سیکیورٹی سے متعلق اہم معاملات پر ہوگا۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ حماس کی جانب سے سول حکومت سے علیحدگی کا اعلان فلسطینی سیاست میں ایک اہم موڑ ہے، تاہم جب تک عسکری معاملات اور سیکیورٹی انتظامات پر اتفاق نہیں ہوتا، غزہ میں مکمل سیاسی استحکام حاصل کرنا ایک بڑا چیلنج رہے گا۔

ٹیگز: #GAZA #international
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں