مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
اتوار، 4 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.82 EUR/PKR 311.47 GBP/PKR 366.01 سونا/تولہ 429,945 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,746 USD/PKR 276.82 EUR/PKR 311.47 GBP/PKR 366.01 سونا/تولہ 429,945 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,746
صفحہ اول

وائٹ ہاؤس سے فیفا تک ہلچل، ڈونلڈ ٹرمپ کی مداخلت کے بعد فولارین بالوگن کی پابندی ختم، بیلجیم کے خلاف کھیلنے کی اجازت

📅 پیر، 06 جولائی 2026 ✍️ Muhammad Khalid ⏱ 6 منٹ
فیفا عالمی کپ فٹ بال ٹورنامنٹ کے 23ویں ایڈیشن کا باضابطہ آغاز کل سے ہوگا، پہلی بار 48 ٹیمیں ایکشن میں نظر آئیں گی، آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور جدید ڈیٹا انفراسٹرکچر کا بڑے پیمانے پر استعمال کیا جائے گا
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

زیورخ/واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک، دوست نیوز) |

فیفا ورلڈ کپ 2026 کے دوران ایک ایسا غیر معمولی واقعہ پیش آیا ہے جس نے عالمی فٹ بال میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ فیفا نے امریکی قومی ٹیم کے اسٹار فارورڈ فولارین بالوگن پر عائد ایک میچ کی پابندی معطل کرتے ہوئے انہیں بیلجیم کے خلاف راؤنڈ آف 16 کے اہم مقابلے میں شرکت کی اجازت دے دی ہے۔ اس فیصلے نے نہ صرف فٹ بال حلقوں کو حیران کر دیا بلکہ اس کے پس منظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مبینہ مداخلت نے معاملے کو سیاسی رنگ بھی دے دیا ہے۔

فیفا کے فیصلے کے بعد دنیا بھر میں کھیل اور سیاست کے تعلق پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے، جبکہ یورپی فٹ بال حلقوں نے اس اقدام کو کھیل کی تاریخ کے متنازع ترین فیصلوں میں سے ایک قرار دیا ہے۔

ریڈ کارڈ سے شروع ہونے والا تنازع

یہ معاملہ امریکہ اور بوسنیا اینڈ ہرزیگووینا کے درمیان کھیلے گئے ورلڈ کپ راؤنڈ آف 32 کے میچ کے دوران سامنے آیا۔ امریکہ نے یہ مقابلہ 2-0 سے جیت لیا، تاہم میچ کے 64ویں منٹ میں فولارین بالوگن کو بوسنیا کے مدافع تارک مہمونووچ کے ساتھ تصادم کے بعد ریفری نے براہِ راست ریڈ کارڈ دکھا دیا۔

فیفا قوانین کے مطابق براہِ راست ریڈ کارڈ ملنے پر اگلے میچ کی معطلی خودکار طور پر نافذ ہو جاتی ہے، جس کے باعث بالوگن بیلجیم کے خلاف ناک آؤٹ مرحلے کا اہم میچ کھیلنے سے محروم ہو گئے تھے۔

ٹرمپ اور انفینٹینو کے درمیان رابطہ

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فیفا کے صدر جیانی انفینٹینو سے براہِ راست رابطہ کیا۔ رپورٹس میں بتایا گیا کہ ٹرمپ نے ریڈ کارڈ کے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ امریکی ٹیم کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے۔

اگرچہ فیفا نے اپنے سرکاری بیان میں کسی سیاسی دباؤ کا ذکر نہیں کیا، تاہم بعد میں ادارے نے اپنے ڈسپلنری کوڈ کے آرٹیکل 27 کے تحت بالوگن کی ایک میچ کی معطلی کو ایک سال کے لیے معطل (Deferred) کرنے کا اعلان کر دیا، جس کے بعد وہ فوری طور پر بیلجیم کے خلاف کھیلنے کے اہل قرار پائے۔

امریکی صدر کا ردعمل

فیصلے کے فوراً بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم Truth Social پر فیفا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا کہ "صحیح فیصلہ کیا گیا اور ایک بڑی ناانصافی کا ازالہ ہوا۔”

ان کے اس بیان نے سیاسی اور کھیلوں کے حلقوں میں مزید بحث کو جنم دیا، جہاں ناقدین نے سوال اٹھایا کہ آیا عالمی کھیلوں کے اداروں پر سیاسی اثرورسوخ بڑھ رہا ہے۔

بیلجیم اور یورپی فٹ بال کا سخت ردعمل

فیفا کے فیصلے پر سب سے سخت ردعمل بیلجیم کی جانب سے سامنے آیا۔ بیلجیم فٹ بال ایسوسی ایشن نے اعلان کیا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف تمام قانونی اور ضابطہ جاتی آپشنز پر غور کرے گی۔

بیلجیم کے ہیڈ کوچ روڈی گارسیا نے طنزیہ انداز میں کہا کہ انہیں معلوم نہیں تھا کہ "فیفا کے دفاتر میں بھی اپریل فول منایا جاتا ہے۔”

یورپی فٹ بال تنظیم یوفا نے بھی فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے "غیر معمولی، ناقابلِ فہم اور ناقابلِ جواز” قرار دیا۔

فٹ بال لیجنڈز بھی میدان میں آ گئے

سابق فیفا صدر سیپ بلیٹر نے کہا کہ فٹ بال کو سیاسی اثرورسوخ سے محفوظ رہنا چاہیے اور ریڈ کارڈ جیسے فیصلے فون کالز کے ذریعے تبدیل نہیں ہونے چاہییں۔

سابق انگلش کپتان وین رونی نے بھی فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ بیلجیم کی جگہ ہوتے تو شدید مایوسی محسوس کرتے۔

اسی طرح فٹ بال مبصرین اور سابق کھلاڑی گیری نیول اور تھیری ہنری نے بھی اس فیصلے کو کھیل کے اصولوں کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔

امریکی کیمپ میں خوشی کی لہر

دوسری جانب امریکی ٹیم کے کوچ ماوریشیو پوچیٹینو نے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ٹیم پہلے ہی بوسنیا کے خلاف تقریباً آدھا گھنٹہ دس کھلاڑیوں کے ساتھ کھیل کر نقصان اٹھا چکی تھی، اس لیے سزا مزید بڑھانا مناسب نہیں تھا۔

پوچیٹینو کا کہنا تھا کہ ان کے نزدیک بالوگن کا ریڈ کارڈ سخت فیصلہ تھا اور فیفا نے دستیاب ضابطوں کے تحت مناسب فیصلہ کیا ہے۔

بیلجیم کے خلاف بڑا امتحان

25 سالہ فولارین بالوگن اس ورلڈ کپ میں امریکہ کے نمایاں کھلاڑیوں میں شمار ہوتے ہیں اور اب تک تین گول اسکور کر چکے ہیں۔ ان کی واپسی سے امریکی ٹیم کے حملہ آور شعبے کو مزید تقویت ملے گی، جبکہ امریکہ کو امید ہے کہ وہ 2002 کے بعد پہلی مرتبہ ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل میں جگہ بنا سکے گا۔

اب سیئٹل میں کھیلا جانے والا امریکہ اور بیلجیم کا مقابلہ صرف ایک فٹ بال میچ نہیں بلکہ اس کے ساتھ فیفا کی ساکھ، قوانین کی تشریح اور کھیل میں سیاست کے کردار پر بھی دنیا بھر کی نظریں مرکوز ہوں گی۔

فیفا کے اس غیر معمولی فیصلے نے جہاں امریکی شائقین میں خوشی کی لہر دوڑا دی ہے، وہیں یورپی فٹ بال حلقوں میں اس پر شدید تنقید جاری ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ معاملہ عالمی فٹ بال کی تاریخ کے متنازع ترین فیصلوں میں شمار کیا جا سکتا ہے۔

ٹیگز: #FIFA #usa
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں