سردار تنویر الیاس کا پیپلز پارٹی سے استعفیٰ: آزاد کشمیر کی سیاست میں بڑا دھچکا

اسلام آباد / مظفر آباد: آزاد جموں و کشمیر کے سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان نے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کو بڑا سیاسی جھٹکا دیتے ہوئے پارٹی کی بنیادی رکنیت سے باقاعدہ استعفیٰ دے دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق انہوں نے اپنا استعفیٰ چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری کو ارسال کر دیا ہے، جس کی تصدیق ان کے ترجمان نے بھی کر دی ہے۔
مصالحتی کوششیں ناکام
ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین روز کے دوران پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت، گورنر پنجاب، گورنر خیبرپختونخوا، چوہدری ریاض اور دیگر اہم رہنماؤں نے سردار تنویر الیاس خان کو منانے اور معاملات افہام و تفہیم سے طے کرنے کی بھرپور کوششیں کیں، تاہم قیادت اور ان کے درمیان ڈیڈ لاک برقرار رہا اور مصالحت کی تمام کوششیں ناکام ہو گئیں۔
علیحدگی کی بنیادی وجہ
سردار تنویر الیاس خان کی پیپلز پارٹی سے راہیں جدا کرنے کی بنیادی وجہ آزاد کشمیر کے آئندہ عام انتخابات کے لیے پارٹی ٹکٹوں کی تقسیم پر سنگین اختلافات بنے۔ انہوں نے پارلیمانی بورڈ کو تین اہم حلقوں: حلقہ وسطی باغ، پاچھیوٹ، اور نیلم سے پارٹی ٹکٹ کے لیے درخواستیں دے رکھی تھیں، جہاں معاملات طے نہ پا سکے۔
وزیر حکومت علی شان سونی کا بھی استعفیٰ
سردار تنویر الیاس اکیلے ہی پارٹی سے الگ نہیں ہوئے بلکہ ان کے ہمراہ ان کا پورا سیاسی گروپ بھی پیپلز پارٹی چھوڑ چکا ہے۔ اس سلسلے میں ایک اور بڑی وکٹ اس وقت گری جب وزیر حکومت علی شان سونی نے بھی پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیادی رکنیت سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا۔
آئندہ کا سیاسی لائحہ عمل: دو آپشنز زیر غور
سردار تنویر الیاس کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ اپنے اگلے سیاسی قدم کا باضابطہ اعلان آئندہ دو روز کے اندر کریں گے۔ اس وقت ان کے سامنے دو اہم آپشنز موجود ہیں:
- وہ اپنے سیاسی ساتھیوں سمیت استحکام پاکستان پارٹی (IPP) میں شمولیت اختیار کر لیں۔
- یا پھر کسی جماعت میں جانے کے بجائے، آزاد کشمیر کے آئندہ انتخابات میں ایک بڑے آزاد گروپ کی قیادت کرتے ہوئے میدان میں اتریں۔
اس استعفے کے بعد آزاد کشمیر کی انتخابی سیاست میں ایک نیا تحرک پیدا ہو گیا ہے اور آنے والے دن سیاسی جوڑ توڑ کے لحاظ سے انتہائی اہم تصور کیے جا رہے ہیں۔
