بلاول بھٹو کا وزیراعظم سے کابینہ پر کنٹرول اور بلدیاتی انتخابات کا مطالبہ
اسلام آباد: چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی کابینہ کے ارکان کو کنٹرول کریں اور سیاسی مسائل کے حل کے لیے مذاکرات اور مفاہمت کا راستہ اختیار کریں، جبکہ ملک بھر میں فوری طور پر بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں۔
قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بعض وفاقی وزراء معاملات کو سلجھانے کے بجائے مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چند وزراء ایسے بیانات اور مشورے دیتے ہیں جن سے وزیراعظم کے لیے مشکلات پیدا ہوتی ہیں اور حکومتی معاملات متاثر ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایک وفاقی وزیر نے آگ بجھانے کے بجائے اسے مزید بھڑکانے کا کردار ادا کیا۔ ایسے بیانات دیے گئے جن میں راولاکوٹ کے شہریوں کی شناخت پر سوال اٹھایا گیا، لیکن متعلقہ وزیر آج تک اپنے بیان پر معافی مانگنے کے لیے تیار نہیں۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ احتجاج اور سیاسی اختلافات کا حل طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ سیاسی راستہ اختیار کرنے میں ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ موجودہ صورتحال میں مولانا فضل الرحمٰن کو مناسب سیاسی اسپیس دی جانی چاہیے تاکہ مسائل کے حل کے لیے مثبت پیش رفت ممکن ہو سکے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو معاشی استحکام اور سیاسی فوائد دلانے کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو متحد ہو کر کام کرنا ہوگا اور قومی مفاد کو ترجیح دینا ہوگی۔
ملک بھر میں بلدیاتی انتخابات کا مطالبہ
چیئرمین پیپلز پارٹی نے ملک بھر میں بلدیاتی انتخابات کے فوری انعقاد کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی آئینی یا قانونی ترمیم سے قبل بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں تاکہ عوام کو نچلی سطح پر نمائندگی کا حق مل سکے۔
انہوں نے کہا کہ بلدیاتی نظام کے نام پر عوام کو محض وعدے دیے جاتے ہیں۔ کراچی کے نمائندوں کو بار بار بلدیاتی نظام کا لالی پاپ دیا جاتا ہے لیکن اختیارات منتقل نہیں کیے جاتے۔ اگر کراچی کا بلدیاتی نظام مؤثر ہے تو اسے لاہور میں بھی نافذ کیا جانا چاہیے۔
بلاول بھٹو زرداری نے ایم کیو ایم پاکستان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جا رہے تو انہیں حکومت میں رہنے یا نہ رہنے کے بارے میں فیصلہ کرنا چاہیے۔
گلگت بلتستان میں بلدیاتی انتخابات
انہوں نے اعلان کیا کہ گلگت بلتستان میں نوے روز کے اندر بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں گے تاکہ مقامی سطح پر جمہوری عمل کو مضبوط بنایا جا سکے اور عوامی مسائل کے حل میں مقامی نمائندوں کو فعال کردار دیا جا سکے۔
