مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
اتوار، 1 نومبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.75 EUR/PKR 309.02 GBP/PKR 370.50 سونا/تولہ (عالمی) 402,290 PKR Bitcoin $78,108 USD/PKR 276.75 EUR/PKR 309.02 GBP/PKR 370.50 سونا/تولہ (عالمی) 402,290 PKR Bitcoin $78,108
قومی

وفاقی آئینی عدالت کا بحال ملازمین کو ریگولر ملازمین تسلیم کرنے کا حکم، سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کی ہدایت

📅 ✍️ ⏱ 5 منٹ
وفاقی آئینی عدالت کا بحال ملازمین کو ریگولر ملازمین تسلیم کرنے کا حکم، سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کی ہدایت
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

وفاقی آئینی عدالت کا بحال ملازمین کو ریگولر ملازمین تسلیم کرنے کا حکم، سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کی ہدایت

اسلام آباد (3D میڈیا) وفاقی آئینی عدالتِ پاکستان نے سپریم کورٹ کے 17 دسمبر 2021 کے فیصلے پر عملدرآمد سے متعلق توہینِ عدالت کی درخواستیں نمٹاتے ہوئے متعلقہ حکام کو حکم دیا ہے کہ درخواست گزاروں کو غیر مشروط طور پر باقاعدہ ریگولر ملازمین تسلیم کیا جائے اور انہیں مستفید ملازمین کی حیثیت سے تسلیم کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے فیصلے پر اس کی اصل روح کے مطابق عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔

جسٹس امین الدین خان، چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت، جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس سید ارشد حسین شاہ پر مشتمل تین رکنی بینچ نے یہ فیصلہ سنایا۔ جسٹس علی باقر نجفی نے فیصلے کی وجوہات تحریر کیں۔

عدالت نے قرار دیا کہ سپریم کورٹ کے احکامات محض سفارشات نہیں بلکہ قانونی مینڈیٹ ہیں، جن پر عملدرآمد حکومت اور متعلقہ اداروں کی آئینی ذمہ داری ہے۔ عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد میں تاخیر قانون کی حکمرانی اور عدالتی نظام پر عوام کے اعتماد کو متاثر کرتی ہے۔

یہ مقدمہ سپریم کورٹ کے سول ریویو پٹیشن نمبر 292/2021 میں 17 دسمبر 2021 کو جاری کیے گئے فیصلے پر عملدرآمد سے متعلق تھا۔ سپریم کورٹ نے اس فیصلے کے ذریعے 108 نظرثانی درخواستیں، 35 سول متفرق درخواستیں اور تین سول متفرق اپیلیں خارج کی تھیں۔ مذکورہ مقدمہ محمد افضل بنام سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سے متعلق تھا۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں یکم نومبر 1996 سے 12 اکتوبر 1999 کے درمیان برطرف کیے گئے ملازمین کی بحالی کے لیے شرائط مقرر کی تھیں۔ فیصلے کے مطابق ایسے ملازمین جن کے عہدوں کے لیے تعلیمی قابلیت یا مہارت کا ٹیسٹ لازمی نہیں تھا، انہیں برطرفی کے وقت لاگو شرائط و ضوابط کے تحت بحال کرنے کا حکم دیا گیا تھا، جبکہ دیگر ملازمین کی بحالی وفاقی پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے متعلقہ ٹیسٹ میں کامیابی سے مشروط کی گئی تھی۔

تفصیلی فیصلے میں یہ بھی ہدایت کی گئی تھی کہ بحال ہونے والے ملازمین ملازمت میں برقرار رہنے کے لیے فیصلے کی وصولی کے تین ماہ کے اندر پبلک سروس کمیشن کا متعلقہ ٹیسٹ دیں اور اس میں کامیابی حاصل کریں۔

وفاقی آئینی عدالت نے اپنے فیصلے میں نشاندہی کی کہ انٹیلیجنس بیورو (IB)، کمشنر افغان رفیوجیز خیبرپختونخوا، نیشنل ہائی وے اتھارٹی، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ، اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن، اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن، سول ایوی ایشن اتھارٹی، واپڈا، سوئی سدرن گیس کمپنی اور ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان سمیت دس اداروں کے بحال ہونے والے ملازمین کے ٹیسٹوں کا معاملہ تاحال حل نہیں ہو سکا تھا۔

عدالت کے سامنے مؤقف اختیار کیا گیا کہ متعلقہ محکموں اور وفاقی پبلک سروس کمیشن نے ان ملازمین کے لیے ٹیسٹوں کا انعقاد نہیں کیا۔ محکموں کا کہنا تھا کہ ملازمین نے خود ٹیسٹ دینے کے لیے آمادگی ظاہر نہیں کی، جبکہ ملازمین کا مؤقف تھا کہ ٹیسٹ کے اشتہارات جاری کرنا اور ان کے انعقاد کا انتظام کرنا متعلقہ محکموں کی ذمہ داری تھی۔

فیصلے میں عدالت نے اس امر کو بھی مدنظر رکھا کہ متعدد ملازمین بحالی کے بعد دس سال سے زائد عرصے تک خدمات انجام دے چکے ہیں اور بعض ریٹائرمنٹ کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ عدالت کے مطابق جب ٹیسٹوں کا انعقاد نہ ہونا ملازمین کی اپنی غلطی کے باعث ثابت نہیں ہوتا تو انہیں متعلقہ اداروں کی انتظامی کوتاہی کا خمیازہ نہیں بھگتنا چاہیے۔

وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا کہ آئینی جمہوریت میں قانون کی حکمرانی اچھی حکمرانی کی بنیاد ہے اور سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عملدرآمد حکومت کے لیے لازم ہے۔ عدالتی احکامات کی عدم تعمیل عدلیہ اور پورے حکومتی نظام پر عوام کے اعتماد کو نقصان پہنچاتی ہے۔

عدالت نے فوجداری توہینِ عدالت کی درخواستیں نمبر 1، 3، 4 اور 22 آف 2024 سمیت متعلقہ مقدمات نمٹاتے ہوئے جواب دہندگان کو ہدایت کی کہ سپریم کورٹ کے 17 دسمبر 2021 کے فیصلے پر اس کے الفاظ اور روح کے مطابق عملدرآمد کریں اور درخواست گزاروں کو غیر مشروط طور پر باقاعدہ مقرر کردہ ریگولر ملازمین کے طور پر تسلیم کریں۔

یہ فیصلہ 30 اور 31 جولائی 2026 کو ہونے والی سماعتوں کے بعد اسلام آباد میں کھلی عدالت میں سنایا گیا۔

تازہ خبروں کے لیے دوست نیوز کو فالو کریں
🏛️ GOVERNMENT PROJECT

PHA Foundation Flats

Sector I-16, Islamabad

✅ Officially Approved
✅ Easy Installments
✅ No Hidden Charges
Starting from
PKR 60 Lac
View Details →
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں