پاکستان نے جی 24 کی سربراہی سنبھال لی، محمد اورنگزیب کا عزم
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ پاکستان نے باضابطہ طور پر جی 24 (G-24) کی سربراہی سنبھال لی ہے، جس کا مقصد ترقی پذیر معیشتوں کی اجتماعی آواز کو مضبوط بنانا اور عالمی مالیاتی نظام میں اصلاحات لانا ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے اس اہم ذمہ داری کو سنبھالتے ہوئے ترقی پر مبنی عالمی معیشت اور کثیر الجہتی اداروں میں اصلاحات کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
اہم نکات
- پاکستان نے 24 رکنی بین الحکومتی گروپ G-24 کی چیئرمین شپ باضابطہ طور پر حاصل کر لی ہے۔
- وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے عالمی اقتصادی پالیسی سازی کے مرکز میں ترقی کو رکھنے پر زور دیا ہے۔
- پاکستان عالمی بینک اور آئی ایم ایف جیسے اداروں میں ترقی پذیر ممالک کی نمائندگی بڑھانے کے لیے کام کرے گا۔
- سربراہی کے دوران قرضوں کے پائیدار حل اور موسمیاتی لچک کے لیے عالمی سطح پر کوششیں کی جائیں گی۔
- پاکستان نے نائجیریا کی سبکدوش ہونے والی قیادت کی خدمات کو سراہتے ہوئے مشن کو آگے بڑھانے کا عہد کیا ہے۔
جی 24 کے لیے پاکستان کی سٹریٹجک ترجیحات
فنانس ڈویژن کے مطابق، سینیٹر محمد اورنگزیب نے اپنی چیئرمین شپ کے لیے تین بنیادی ستونوں کی نشاندہی کی ہے۔ سب سے پہلے، میکرو اکنامک استحکام کو سرمایہ کاری اور روزگار کی بنیاد بنایا جائے گا تاکہ کم آمدنی والی معیشتیں پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکیں۔ وزیر خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان، اکتوبر 2026: بحالی کی امید یا نئے دباؤ کی آہٹ؟ کے تناظر میں ابھرتی ہوئی معیشتوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا ناگزیر ہے۔
عالمی مالیاتی ڈھانچے میں اصلاحات کا مطالبہ
دوسری ترجیح کثیر الجہتی فریم ورک کا استحکام ہے تاکہ عالمی فیصلہ سازی میں ترقی پذیر ممالک کی بامعنی شرکت کو یقینی بنایا جا سکے۔ پاکستان کا موقف ہے کہ عالمی بینک اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) جیسے بریٹن ووڈز اداروں کو موجودہ عالمی حقائق اور اپنے اراکین کی ضروریات کے مطابق خود کو ڈھالنے کی ضرورت ہے۔ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ ہمارا مقصد محض آواز بلند کرنا نہیں بلکہ ٹھوس پالیسی تبدیلی لانا ہے۔
مشترکہ تعاون اور مستقبل کا لائحہ عمل
پاکستان کی قیادت G-24 کے مشاورت اور اتفاق رائے کے اصولوں کے تحت آگے بڑھے گی۔ اس مقصد کے حصول کے لیے افریقہ، ایشیا، لاطینی امریکا اور کیریبین کے رکن ممالک کے ساتھ قریبی رابطے رکھے جائیں گے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ اصلاحات کے عمل سے گزرنے والی معیشتوں کو پائیدار ترقی کے لیے ضروری مالی وسائل اور پالیسی سازی کی گنجائش فراہم کرنا ہماری اولین ترجیح ہوگی۔ یاد رہے کہ اس سے قبل وفاقی آئینی عدالت کا بحال ملازمین کو ریگولر ملازمین تسلیم کرنے کا حکم، سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کی ہدایت جیسے فیصلوں نے ملکی سطح پر معاشی اور انتظامی اصلاحات کی اہمیت کو اجاگر کیا تھا۔
پاکستان کے معاشی استحکام اور مشکلات سے نکلنے کے تجربے کی روشنی میں، سینیٹر اورنگزیب نے یہ بھی واضح کیا کہ ترقی پذیر معیشتوں کی ترقی کو کسی فرسودہ مالیاتی ڈھانچے کی وجہ سے محدود نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ گروپ کی اجتماعی کوششیں، جیسا کہ پاکستان نے سہ فریقی ون ڈے کرکٹ ٹورنامنٹ جیت لیا، فائنل میں سری لنکا کو 3 وکٹوں سے شکست دینے کی طرح، بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر بھی نمایاں کامیابیوں کا پیش خیمہ ثابت ہوں گی۔
اہم سوالات و جوابات
جی 24 کے لیے پاکستان کی تین اہم ترجیحات کیا ہیں؟
پاکستان عالمی اقتصادی پالیسی سازی کے مرکز میں ترقی کو ترجیح دے گا، کثیر الجہتی اداروں کے فریم ورک کو مستحکم کرے گا اور بین الاقوامی مالیاتی ڈھانچے میں اصلاحات کے ذریعے ترقی پذیر ممالک کی موثر نمائندگی یقینی بنائے گا۔
پاکستان عالمی مالیاتی اداروں سے کیا مطالبہ کر رہا ہے؟
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے عالمی بینک اور آئی ایم ایف پر زور دیا ہے کہ وہ فیصلہ سازی میں ترقی پذیر ممالک کی بامعنی شرکت کو یقینی بنائیں اور بدلتی ہوئی عالمی ضروریات کے مطابق ردعمل کا مظاہرہ کریں۔
