مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
جمعہ، 2 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 277.10 EUR/PKR 312.29 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 429,210 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $85,385 USD/PKR 277.10 EUR/PKR 312.29 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 429,210 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $85,385
تازہ ترین

سیدنا امام حسینؓ

📅 بدھ، 24 جون 2026 ✍️ Muhammad Khalid ⏱ 5 منٹ
سیدنا امام حسینؓ
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

محمد خالد

— وہ عظیم ہستی جن سے محبت خود رسول اللہ ﷺ کی محبت ہے
اسلام کی تاریخ میں کچھ شخصیات ایسی ہیں جن کا مقام وقت گزرنے کے ساتھ کم نہیں ہوتا بلکہ مزید روشن ہوتا چلا جاتا ہے۔ سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ بھی ایسی ہی عظیم ہستی ہیں۔ چودہ سو سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے لیکن آج بھی دنیا بھر کے مسلمانوں کے دل محبتِ حسینؓ سے سرشار ہیں۔ اس محبت کی بنیاد صرف جذبات نہیں بلکہ قرآن، سنت اور رسول اللہ ﷺ کی واضح تعلیمات ہیں۔
سیدنا امام حسینؓ نبی کریم ﷺ کے نواسے، سیدنا علیؓ کے فرزند اور سیدہ فاطمہ الزہراؓ کے لختِ جگر تھے۔ یہ وہ مبارک گھرانہ ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا:
"اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ اے اہلِ بیت! تم سے ہر قسم کی آلودگی دور کر دے اور تمہیں خوب پاک و صاف کر دے۔” (سورۃ الاحزاب: 33)
امام حسینؓ کو وہ سعادت حاصل ہوئی جو دنیا کے بہت کم لوگوں کو نصیب ہوئی۔ آپؓ نے اپنی آنکھوں سے رسول اللہ ﷺ کی محبت، شفقت اور تربیت کو دیکھا۔ نبی کریم ﷺ نہ صرف اپنے نواسوں سے محبت فرماتے تھے بلکہ امت کو بھی ان سے محبت کا درس دیتے تھے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں، اللہ اس شخص سے محبت کرے جو حسین سے محبت کرے۔” (جامع ترمذی)
یہ حدیث امام حسینؓ کی عظمت کے لیے کافی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے صرف محبت کا اظہار نہیں فرمایا بلکہ امام حسینؓ سے محبت کرنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی محبت کی دعا بھی فرمائی۔ اس سے بڑھ کر کسی شخصیت کا مقام اور کیا ہو سکتا ہے؟
ایک اور حدیث میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"حسن اور حسین جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں۔” (جامع ترمذی)
یہ اعزاز اللہ تعالیٰ کے محبوب نبی ﷺ کی زبان مبارک سے عطا ہوا۔ جنت کے نوجوانوں کی سرداری کوئی معمولی فضیلت نہیں بلکہ امام حسینؓ کے بلند مقام کا واضح اعلان ہے۔
صحیح بخاری میں روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ امام حسنؓ اور امام حسینؓ سے بے حد محبت کرتے تھے۔ کبھی انہیں اپنے کندھوں پر سوار کرتے، کبھی سینے سے لگاتے اور کبھی ان کے لیے خصوصی دعائیں فرماتے۔ ایک موقع پر آپ ﷺ نے فرمایا:
"اے اللہ! میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں، تو بھی ان سے محبت فرما۔” (صحیح بخاری)
یہ محبت صرف خاندانی تعلق کی بنیاد پر نہیں تھی بلکہ اس لیے بھی تھی کہ امام حسینؓ تقویٰ، اخلاص، حسنِ اخلاق اور دین سے وابستگی کا بہترین نمونہ تھے۔
امام حسینؓ کی عظمت صرف اس بات میں نہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے نواسے تھے بلکہ ان کی اپنی زندگی بھی ایمان، عبادت، سخاوت، صبر اور حق پسندی کا روشن نمونہ تھی۔ آپؓ نے ہمیشہ دینِ اسلام کی سربلندی، امت کی بھلائی اور حق کی حمایت کو ترجیح دی۔ آپؓ کی شخصیت میں شجاعت بھی تھی، حلم بھی تھا، عبادت بھی تھی اور عاجزی بھی۔
اگر ہم امام حسینؓ کی زندگی کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ آپؓ نے امت کو یہ سبق دیا کہ عزت و وقار دولت، طاقت یا حکومت سے نہیں بلکہ حق پر قائم رہنے سے حاصل ہوتا ہے۔ ایک مسلمان کے لیے سب سے بڑی کامیابی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی رضا ہے، خواہ اس کے لیے کتنی ہی قربانیاں کیوں نہ دینی پڑیں۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم امام حسینؓ کے نام پر صرف جذباتی نعرے نہ لگائیں بلکہ ان کے کردار کو اپنی زندگیوں میں اپنائیں۔ ان کی سچائی، صبر، تقویٰ، عدل، برداشت اور دین سے وفاداری کو اپنا شعار بنائیں۔ یہی امام حسینؓ سے حقیقی محبت ہے اور یہی وہ راستہ ہے جو امت کو اتحاد، اخوت اور کامیابی کی طرف لے جا سکتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ امام حسینؓ کو عظیم بنانے کے لیے کسی مورخ کی گواہی کی ضرورت نہیں، کیونکہ ان کی عظمت کا اعلان خود رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے۔
سلام ہو امام حسینؓ پر،
سلام ہو نواسۂ رسول ﷺ پر،
سلام ہو جنتی نوجوانوں کے سردار پر،
اور سلام ہو اس عظیم ہستی پر جس کی محبت کو رسول اللہ ﷺ نے اپنی محبت قرار دیا۔

ٹیگز: #hussain #innocent #karbala #kings of heaven #navasa e rasool #shaheed e azeem
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں