پاکستان: ایزی پیسہ اور بائنانس میں مالیاتی ٹیکنالوجی کے فروغ کیلئے شراکت داری

اسلام آباد۔ ایزی پیسہ ڈیجیٹل بینک نے دنیا کے معروف بلاک چین ایکو سسٹم اور کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائنانس (Binance) کے ساتھ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کردیے ہیں۔ اس شراکت داری کا مقصد پاکستان میں بڑھتی ہوئی مالیاتی ٹیکنالوجیز کا فروغ اور موثر استعمال کے امکانات کا جائزہ لینا اور ڈیجیٹل بچت و سرمایہ کاری کے جدید حل کے لیے مواقع تلاش کرنا ہے۔
شراکت داری کی تفصیلات
اسلام آباد میں منعقدہ ایک تقریب میں ایزی پیسہ ڈیجیٹل بینک کے صدر و سی ای او جہانزیب خان اور بائنانس کے مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ، ترکی (ایم ای این اے ٹی) کے ریجنل ہیڈ اور ابوظہبی میں سینئر ایگزیکٹو آفیسر طارق ایرک نے اپنے اپنے اداروں کے سینئر نمائندوں کی موجودگی میں دستخط کیے۔ یہ شراکت داری پاکستان کے ڈیجیٹل مالیاتی شعبے میں جدت، ذمہ دارانہ ترقی اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے ایزی پیسہ کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
مفاہمتی یادداشت کے تحت ایزی پیسہ اور بائنانس پاکستان میں ڈیجیٹل بچت اور سرمایہ کاری کے شعبے کو فروغ دینے کے لیے ممکنہ تعاون کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیں گے اور ابتدائی مشاورت و تبادلہ خیال کریں گے۔ تاہم مستقبل میں کسی بھی تعاون کا انحصار متعلقہ ریگولیٹری منظوریوں، ضابطہ جاتی فریم ورک میں پیش رفت اور تمام لائسنسنگ کمپلائنس کی تکمیل پر ہوگا۔ یہ اقدام ملک میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنے کی کوششوں سے ہم آہنگ ہے۔
بائنانس اور ریگولیٹری پیشرفت
بائنانس دنیا بھر میں 300 ملین سے زائد رجسٹرڈ صارفین کو خدمات فراہم کرتا ہے اور بلاک چین و ڈیجیٹل مالیاتی ٹیکنالوجیز پر مبنی جامع سہولتیں پیش کرتا ہے، جن میں ٹریڈنگ پلیٹ فارمز، مالیاتی مصنوعات، تعلیمی اقدامات اور Web3 پر مبنی جدید ڈیجیٹل خدمات شامل ہیں۔ کمپنی سکیورٹی، شفافیت اور ضابطہ جاتی تقاضوں کی پاسداری کرتی ہے اور ایک ایسے جامع ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے کوشاں ہے جو دنیا بھر میں مالیاتی رسائی اور معاشی مواقع کو وسعت دے، جس کی نگرانی کیلئے جدید ڈیجیٹل نظام بھی معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ بائنانس نے حال ہی میں پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی (پی وی اے آر اے) کے تحت اینٹی منی لانڈرنگ (اے ایم ایل) رجسٹریشن بھی حاصل کرلی ہے، جو پاکستان میں ضابطہ جاتی ڈیجیٹل مالیاتی نظام کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم ہے جس پر عالمی میڈیا بھی نظر رکھے ہوئے ہے۔
ایم او یو کے تحت مجوزہ اقدامات میں آگاہی، تعلیم اور کیپسٹی بلڈنگ سے متعلق سرگرمیاں شامل ہوں گی۔ یہ ابتدائی نوعیت کی کاوشیں ایزی پیسہ کو مستقبل میں قابل عمل اقدامات اور پروگرامز کی تیاری میں معاونت کریں گی، جو متعلقہ ضابطہ جاتی رہنما اصولوں کے مطابق ہوں گے۔
پاکستان میں ڈیجیٹل معیشت کے امکانات
یہ تعاون پاکستان کی تیزی سے پھیلتی ہوئی ڈیجیٹل طور پر منسلک آبادی میں ڈیجیٹل بچت اور ٹیکنالوجی پر مبنی مالیاتی جدت کے بڑھتے ہوئے رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔ پاکستان ابھرتی ہوئی مالیاتی ٹیکنالوجیز کے لیے نمایاں امکانات کا حامل ملک ہے، جہاں جدت پر مبنی سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی سے منسلک اقدامات ملک کی مجموعی ڈیجیٹل معیشت کے لیے امید افزا مواقع فراہم کر رہے ہیں، جو کہ ملکی معیشت کے مجموعی حجم میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔
اعلیٰ حکام کے تاثرات
ایزی پیسہ ڈیجیٹل بینک کے صدر اور سی ای او جہانزیب خان نے کہا، ”ایزی پیسہ ڈیجیٹل بینک اپنے صارفین کے لیے ڈیجیٹل بینکنگ کو آسان اور محفوظ بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔ مالیاتی ٹیکنالوجی کے ابھرتے ہوئے شعبوں میں بائنانس کی مہارت سے فائدہ اٹھا کر ہم پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی (پی وی اے آر اے) کے رہنما اصولوں کے مطابق سیکھیں گے اور مواقع تلاش کریں گے۔ ہم بائنانس کے ساتھ مل کر پاکستان میں ڈیجیٹل مالیاتی رسائی اور جدت کو فروغ دینے کے لیے محفوظ و قابلِ اعتماد طریقوں کا جائزہ لینے کے خواہاں ہیں۔“
ریجنل ہیڈ برائے (ایم ای این اے ٹی) اور ایس ای او ابوظہبی، بائنانس طارق ایرک نے کہا، ”ایزی پیسہ کے ساتھ شراکت داری پاکستان کی اس صلاحیت کو ظاہر کرتی ہے جو ابھرتی ہوئی مالیاتی ٹیکنالوجیز کے لیے مستقبل کی مارکیٹ کے طور پر سامنے آئی ہے۔ یہ ترقی اسکیل، اعتماد اور بڑھتی ہوئی ریگولیٹری شمولیت کی بدولت ممکن ہوئی ہے۔ پاکستان بھر میں آگاہی اور دلچسپی کے پیش نظر ہمیں یقین ہے کہ بائنانس کی عالمی مہارت اور ایزی پیسہ کی مقامی رسائی اور وسعت مل کر ذمہ دارانہ جدت اور ایک پائیدار ڈیجیٹل مالیاتی نظام کی ترقی میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔“
ایزی پیسہ ڈیجیٹل بینک پاکستان کے ہر پانچ میں سے ایک شہری تک رسائی رکھتا ہے اور اس کی خواتین صارفین کی تعداد 31 فیصد ہے۔ 2025 میں ایزی پیسہ کے ذریعے 4.5 ارب سے زائد ٹرانزیکشنز کی گئیں، جن کی مجموعی مالیت 15 ٹریلین روپے سے زائد ہے، جو پاکستان کی جی ڈی پی کے تقریباً 13 فیصد کے برابر ہے۔ ایزی پیسہ ملک بھر میں ڈیجیٹل بینکنگ اور مالیاتی شمولیت کے نئے معیار قائم کر رہا ہے۔
