وزیراعظم کا ناقص نتائج پر جامعات میں آئی ٹی تعلیم کے جامع جائزے کا حکم

اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملک بھر کی جامعات میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی تعلیم کا جامع جائزہ لینے کا حکم دے دیا ہے۔ یہ ہدایت قومی سطح کے اسکلز کمپٹینسی ٹیسٹ میں طلبہ کی کمزور کارکردگی سامنے آنے کے بعد جاری کی گئی۔
آئی ٹی کے شعبے میں اعلیٰ تعلیم سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے ہدایت کی کہ جامعات میں دی جانے والی آئی ٹی تعلیم اور تربیت کو عالمی مارکیٹ اور جدید ٹیکنالوجیز کی ضروریات کے مطابق بنایا جائے۔
وزیراعظم نے کہا کہ نوجوانوں کو ایسی مہارتوں سے آراستہ کرنا ضروری ہے جو عالمی صنعت کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے بیشتر جامعات میں آئی ٹی تعلیم جدید تکنیکی ضروریات کے مطابق نہیں۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے زیر اہتمام قومی اسکلز کمپٹینسی ٹیسٹ میں ملک بھر کے 190 اعلیٰ تعلیمی اداروں کے 33,038 طلبہ نے حصہ لیا۔ یہ ٹیسٹ مختلف شہروں میں قائم مراکز میں سخت نگرانی اور شفاف طریقہ کار کے تحت لیا گیا۔
بریفنگ کے مطابق صرف 0.4 فیصد طلبہ نے 80 فیصد سے زائد نمبر حاصل کیے، 3.6 فیصد نے 68 سے 79 فیصد، 13.2 فیصد نے 58 سے 67 فیصد اور 21.3 فیصد نے 50 سے 57 فیصد نمبر حاصل کیے، جبکہ 61 فیصد طلبہ 50 فیصد نمبر بھی حاصل نہ کر سکے۔
وزیراعظم نے نتائج کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے اعلیٰ تعلیم خصوصاً آئی ٹی کے شعبے میں فوری اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے جامعات میں آئی ٹی تعلیم و تربیت کے پروگراموں کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کرانے کی ہدایت بھی کی۔
انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ مصنوعی ذہانت، ڈیٹا سائنس، روبوٹکس اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز میں طلبہ کو اعلیٰ مہارتیں فراہم کرنے کے لیے جامع روڈ میپ جلد پیش کیا جائے۔
اجلاس میں وفاقی وزرا احسن اقبال، احد خان چیمہ، شزا فاطمہ خواجہ، چیئرمین ایچ ای سی پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر، چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان اور متعلقہ اداروں کے سینئر حکام شریک ہوئے۔
