ویپ پر پابندی: نوجوان نسل کے تحفظ کے لیے ایک اہم اور بروقت فیصلہ
محمد خالد
اسلام آباد: پاکستان میں ویپ (Vape) کے استعمال اور فروخت پر پابندی کے حکومتی اقدام کو عوامی صحت کے ماہرین، سماجی حلقوں اور والدین کی جانب سے ایک مثبت اور دور اندیش فیصلہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق ویپنگ نوجوان نسل میں تیزی سے مقبول ہو رہی تھی، جس کے نتیجے میں نکوٹین کی لت، پھیپھڑوں کی بیماریوں اور دیگر سنگین طبی مسائل میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا تھا۔
صحت کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ کو بعض حلقوں کی جانب سے روایتی سگریٹ کا نسبتاً کم نقصان دہ متبادل قرار دیا جاتا رہا ہے، لیکن حالیہ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ ویپ میں موجود نکوٹین اور دیگر کیمیکل انسانی صحت کے لیے شدید خطرات کا باعث بن سکتے ہیں۔ خاص طور پر کم عمر نوجوان اس کے منفی اثرات کا زیادہ شکار ہوتے ہیں کیونکہ نکوٹین دماغی نشوونما پر برا اثر ڈالتی ہے اور انسان کو جلد نشے کا عادی بنا سکتی ہے۔
گزشتہ چند برسوں کے دوران پاکستان کے بڑے شہروں میں ویپنگ کا رجحان تشویشناک حد تک بڑھا۔ رنگ برنگے ڈیزائن، مختلف ذائقے اور جدید طرز کی مارکیٹنگ کے ذریعے نوجوانوں کو اس جانب راغب کیا گیا۔ ماہرین کے مطابق کئی نوجوان صرف تجسس یا دوستوں کے دباؤ کی وجہ سے ویپ استعمال کرنا شروع کرتے ہیں، لیکن بعد ازاں نکوٹین کی لت میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔
حکومت کا یہ فیصلہ دراصل نوجوان نسل کو صحت کے بڑھتے ہوئے خطرات سے محفوظ رکھنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔ عوامی صحت کا تحفظ کسی بھی ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہوتی ہے اور ایسے اقدامات ایک صحت مند اور ذمہ دار معاشرے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف پابندی ہی کافی نہیں بلکہ اس کے ساتھ مؤثر آگاہی مہم، تعلیمی اداروں میں شعور بیدار کرنے کے پروگرام اور قانون پر سختی سے عملدرآمد بھی ضروری ہے۔
سماجی کارکنوں نے بھی اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ نوجوانوں کو تمباکو اور نکوٹین سے متعلق مصنوعات کے نقصانات سے آگاہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان کے مطابق اگر نئی نسل کو صحت مند سرگرمیوں کی جانب راغب کیا جائے تو نہ صرف بیماریوں میں کمی آئے گی بلکہ ملک کا مستقبل بھی زیادہ روشن اور مضبوط ہوگا۔
عوامی حلقوں نے حکومت پاکستان، وزارت صحت اور متعلقہ اداروں کو اس فیصلے پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ تمباکو اور نکوٹین پر مشتمل دیگر مضر مصنوعات کے خلاف بھی مؤثر اقدامات جاری رکھے جائیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صحت مند نوجوان ہی کسی قوم کا اصل سرمایہ ہوتے ہیں اور ایک مضبوط، ترقی یافتہ پاکستان کی بنیاد بھی صحت مند نسل پر ہی استوار ہوتی ہے۔
بلاشبہ ویپ پر پابندی کا یہ فیصلہ عوامی صحت کے تحفظ، نوجوانوں کے روشن مستقبل اور ایک بہتر معاشرے کی تشکیل کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔
صحت مند نوجوان، مضبوط پاکستان
