آزاد کشمیر میں ہڑتال، کاروبار بند اور ٹرانسپورٹ معطل
مظفرآباد: پاکستان کے زیر انتظام آزاد کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پر ہڑتال کے باعث کاروباری مراکز بند اور پبلک ٹرانسپورٹ معطل رہی، جبکہ انتظامیہ نے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے اضافی سکیورٹی تعینات کی۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ہڑتال کی کال حال ہی میں پابندی کا سامنا کرنے والی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے دی۔ یہ احتجاج راولاکوٹ میں ہونے والی جھڑپوں کے بعد سامنے آیا، جہاں حکام کے مطابق سات افراد جاں بحق ہوئے تھے۔
تنازع اس عدالتی فیصلے کے بعد شدت اختیار کر گیا جس میں آزاد کشمیر کی سپریم کورٹ نے پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کے لیے مختص 12 قانون ساز نشستوں کو آئینی تحفظ کا حامل قرار دیا۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی ان نشستوں کے خاتمے اور مقامی سطح پر سیاسی حقوق میں اضافے کا مطالبہ کر رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق مظفرآباد سمیت مختلف شہروں میں بازار بڑی حد تک خالی اور بس اڈے سنسان رہے۔ حکومت نے بعض علاقوں میں انٹرنیٹ سروس معطل کی اور اضافی نفری تعینات کی، جبکہ علاقائی وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ حکومت آئینی معاملات کے علاوہ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔
حکام نے کمیٹی کے بعض رہنماؤں کے خلاف مقدمات درج کیے ہیں اور متعدد کارکنوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔ صورتحال آئندہ انتخابات سے قبل خطے میں سیاسی کشیدگی میں اضافے کا اشارہ دے رہی ہے۔
